اردو اور فارسی شاعری سے انتخابات -------- Selections from Urdu and Farsi poetry

آج پھر تم نے میرے دل میں جگایا ہے وہ خواب

12/17/2014

سناٹا
 
آج پھر تم نے میرے دل میں جگایا ہے وہ خواب
میں نے جس خواب کو رو رو کے سلایا تھا ابھی
 
کیا ملا تمہیں انہیں پھر سے فروزاں کر کے
میں نے دہکے ہوئے شعلوں کو بجھایا تھا ابھی
 
میں نے کیا کچھ نہیں سوچا تھا کہ جانِ غزل
کہ میں اس شعر کو چاہوں گا، اسے پُوجوں گا
 
اپنی ترسی ہوئی آغوش میں تارے بھر کے
قصرِ مہتاب تو کیا عرش کو بھی چھُو لوں گا
 
تم نے تب وقت کو ہر زخم کا مرہم سمجھا
اور ناسور میرے دل میں چمکتے بھی رہے
لذت تشنہ لبی بھی مجھے شیشوں نے نہ دی
محفل عام میں تا دیر چھلکتے بھی رہے
 
اور اب جب نہ کوئی درد نہ حسرت نہ کسک
اک لرزتی ہوئی لو کو تہِ داماں نہ کرو
 
تیرگی اور بھی بڑھ جائے گی ویرانے کی
میری اُجڑی ہوئی دنیا میں چراغاں نہ کرو

کوئی تبصرے نہیں :