اردو اور فارسی شاعری سے انتخابات -------- Selections from Urdu and Farsi poetry

محسن نقوی: کبھی لب ہلیں گے تو پوچھنا

6/23/2015

ابھی کیا کہیں ، ابھی کیا سنائیں
کہ سرِفصیلِ سکوتِ جاں
کفِ روز و شب پہ شرر نما
وہ جو حرف حرف چراغ تھا
اُسے کِس ہوا نے بُجھا دیا
کبھی لب ہلیں گے تو پوچھنا

سرِ سحرِ عہدِ وِصال میں
وہ جو نِکہتوں کا ہجوم تھا
اُسے دستِ موجِ فراق نے
تہہِ خاک کب سے مِلا دیا
کبھی گُل کھلیں گے تو پوچھنا

ابھی کیا کہیں ، ابھی کیا سنائیں
یونہی خواہشوں کے فِشار میں
کبھی بے سبب کبھی بے خلل
کہاں کون کِس سے بچھڑ گیا
کِسے کِس نے کیسے گنوا دیا
کبھی پھر ملیں گے تو پوچھنا

پروین شاکر بادباں کُھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا

بادباں کُھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا
میں سمندر دیکھتی ہوں ، تم کنارہ دیکھنا

یوں بچھڑنا بھی آساں نہ تھا اُس سے مگر
جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا

کِس ثباہت کو لئے آیا ہے دروازے پہ چاند
اے شبِ ہجراں ، ذرا اپنا سِتارہ دیکھنا

کیا قیامت ہے کہ جِن کے نام پہ پسپا ہوئے
اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آراء دیکھنا

جیتنے میں جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے
ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا

آئینے کی آنکھ ہی کُچھ کم نہ تھی میرے لئے
جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمہارا دیکھنا

ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے
زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا

جالب اِس شہرِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے

اِس شہرِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے
زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے

یہ ہنستا ہوا چاند ، یہ پُر نور ستارے
تابندہ و پائندہ ہیں ذروں کے سہارے

حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے
ارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے

ہر صبح ، میری صبح پہ روتی رہی شبنم
ہر رات ، میری رات پہ ہنستے رہے تارے

کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غمِ جاناں
کب تک کوئی تیری اُلجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے

نوشی گیلانی گریزِ شب سے ، سحر سے کلام رکھتے تھے

گریزِ شب سے ، سحر سے کلام رکھتے تھے
کبھی وہ دِن تھے کہ زلفوں میں شام رکھتے تھے

تمہارے ہاتھ لگے ہیں تو جو کرو سو کرو
وگرنہ تم سے تو ہم سو غلام رکھتے تھے

ہمیں بھی گھیر لیا گھر کے زعم نے تو کُھلا
کچھ اور لوگ بھی اِس میں قیام رکھتے تھے

یہ اور بات ہمیں دوستی نہ راس آئی
ہوا تھی ساتھ تو خوشبو مقام رکھتے تھے

نجانے کون سی رُت میں بچھڑ گئے وہ لوگ
جو اپنے دِل میں بہت احترام رکھتے تھے

وہ آ تو جاتا کبھی ، ہم تو اُس کے رستوں پر
دیئے جلائے ہوئے صبح و شام رکھتے تھے

محسن نقوی ہمارا کیا ہے کہ ہم تو پسِ غُبارِ سفر

ہمارا کیا ہے کہ ہم تو چراغِ شب کی طرح
اگر جلے بھی تو بس اِتنی روشنی ہوگی
کہ جیسے تُند اندھیروں کی راہ میں جگنو
ذرا سی دیر کو چمکے ، چمک کے کھو جائے
پھر اُس کے بعد کِسی کو نہ کُچھ سُجھائی دے
نہ شب کٹے نہ سُراغِ سحر دکھائی دے

ہمارا کیا ہے کہ ہم تو پسِ غُبارِ سفر
اگر چلے بھی تو بس اِتنی راہ طے ہوگی
کہ جیسے تیز ہوائوں کی زد میں نقشِ قدم
ذرا سی دیر کو اُبھرے ، اُبھر کے مِٹ جائے
پھر اس کے بعد نہ منزل نہ رہگزار ملے
حدِ نگاہ تلک دشتِ بے کنار مِلے

ہماری سمت نہ دیکھو کہ کوئی دیر میں ہم
قبیلہءِ دِل و جاں سے بِچھڑنے والے ہیں
بسِ بسائے ہوئے شہر اپنی آنکھوں کے
مثالِ خانہء۔ ویراں اُجڑنے والے ہیں
ہوا کا شور یہی ہے تو دیکھتے رہنا
ہماری عمر کے خیمے اُکھڑنے والے ہیں