اردو اور فارسی شاعری سے انتخابات -------- Selections from Urdu and Farsi poetry

نامعلوم - جوش جوانی ہے، ذرا جھوم کے چلتے ہیں

3/19/2013

ٹرک کے پیچھے لکھا ہوا شعر

جوش جوانی  ہے ، ذرا  جھوم  کے چلتے ہیں
لوگ سمجھتے ہیں، ڈرائیور کچھ پی کے چلتے ہیں

شورش کاشمیری - فضا میں رنگ ستاروں میں روشنی نہ رہے

فضا میں رنگ ستاروں میں روشنی نہ رہے
ہمارے بعد یہ ممکن ہے زندگی نہ رہے

خیال خاطر احباب واہمہ ٹھہرے
اس انجمن میں کہیں رسم دوستی نہ رہے

فقیہہ شہر کلام خدا کا تاجر ہو
خطیب شہر کو قرآں سے آگہی نہ رہے

قبائے صوفی و ملا کا نرخ سستا ہو
بلال چپ ہو، اذانوں میں دلکشی نہ رہے

نوادرات قلم پر ہو محتسب کی نظر
محیط ہو شب تاریک روشنی نہ رہے

اس انجمن میں عزیزو یہ عین ممکن ہے
ہمارے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہے

اقبال - میرِ سپاہ ناسزا، لشکر یاں شکستہ صف

میرِ  سپاہ  ناسزا،  لشکر یاں  شکستہ  صف
آہ! وہ تیرِ نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف

تیرے   محیط  میں  کہیں   گوہرِ   زندگی   نہیں
ڈھونڈ چکا میں موج موج، دیکھ چکا صدف صدف

عشقِ بتاں سے ہاتھ اٹھا، اپنی خودی میں ڈوب جا
نقش  و  نگار  دَیر   میں   خونِ   جگر  نہ  کر  تلف

کھول کے کیا بیاں کرو سرِ مقامِ مرگ و عشق
عشق ہے مرگِ باشرف،  مرگ حیاتِ  بے شرف

صحبتِ پیرِ روم سے مجھ پہ ہوا یہ راز فاش
لاکھ حکیم سر بجیب ، ایک کلیم  سر بکف

مثلِ  کلیم   ہو   اگر   معرکہ    آزما    کوئی
اب بھی درختِ طور سے آتی ہے بانگِ لاتخف

خیرہ نہ  کر  سکا  مجھے  جلوۂ  دانش  فرنگ
سرمہ  ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ  و  نجف

اقبال - ہر کہ عشق مصطفی سامان اوست

ہر کہ عشق مصطفی سامان اوست
بحر و   بر  در  گوشہ دامان اوست

سوز صدیق و علی از حق طلب
ذرہ  عشق  نبی  از  حق طلب

زاں کہ ملت را حیات از عشق اوست
برگ و ساز کائنات  از   عشق  اوست

روح را  جز  عشق  او  آرام نیست
عشق او روز یست کو راشام نیست

حفیظ جالندھری - سلام اے آمنہ کے لال، اے محبوبِ سبحانی

سلام اے آمنہ کے لال، اے محبوبِ سبحانی
سلام اے  فخرِ  موجودات، فخرِ  نوعِ  انسانی

سلام اے ظِلِ رحمانی، سلام اے نورِ یزدانی
تِرا نقشِ  قدم  ہے  زندگی  کی  لوحِ  پیشانی

سلام اے سِرِ وحدت، اے سِراجِ بزم ایمانی
زہے  یہ  عِزت افزائی،  زہے  تشریف  ارزانی

تِرا در ہو، مِرا سر  ہو  مِرا  دل  ہو،  تِرا  گھر  ہو
تمنا    مختصر    سی     ہے     مگر     تمہید     طولانی

سلام   اے   آتشیں   زنجیرِ    باطل   توڑنے   والے
سلام اے خاک کے ٹوٹے ہوئے دل جوڑنے والے

ساحر - یہ شاہراہیں اسی واسطے بنی تھیں کیا؟

یہ   شاہراہیں  اسی   واسطے   بنی   تھیں  کیا؟
کہ ان پہ دیس کی جنتا سسک سسک کے مرے

زمیں نے کیا  اسی کارن اناج  اگلا تھا؟
کہ نسل ِ آدم و حوا بلک بلک کے مرے

ملیں اسی لئے ریشم کے ڈھیر بنتی  ہیں؟
کہ  دختران  وطن  تار  تار  کو   ترسیں

چمن کو اس لئے مالی نے خون سے سینچا تھا؟
کہ  اس  کی  اپنی   نگاہیں  بہار   کو   ترسیں

نامعلوم - مرے گیت - مرے سرکش ترانے سن کر دنیا یہ سمجھتی ہے

مرے  سرکش ترانے  سن کر  دنیا  یہ  سمجھتی  ہے
کہ شاید میرے دل کو عشق کے نغموں‌سے نفرت ہے

مجھے  ہنگامہ  جنگ  و  جدل  میں کیف  ملتا   ہے
مری فطرت کو خوں ریزی کے افسانوں سے رغبت ہے

مری دنیا میں کچھ وقعت نہیں ہے رقص و نغمہ کی
مرا   محبوب   نغمہ    شورِ    آہنگِ   بغاوت    ہے

مگر اے کاش دیکھیں وہ مری پرسوز راتوں کو
میں‌جب تاروں‌ پہ نظریں گاڑ کر آنسو بہاتا ہوں

تصور  بن  کے  بھولی  وارداتیں  یاد   آتی  ہیں
تو سوز و درد کی شدت سے پہروں تلملاتا ہوں

کوئی خوابوں میں‌ خوابیدہ امنگوں‌ کو جگاتی  ہے
تو اپنی زندگی کو  موت کے  پہلو  میں  ‌پاتا  ہوں

میں شاعر ہوں مجھے فطرت کے نظاروں سے الفت ہے
مرا    دل   دشمن   نغمہ   سرائی    ہو    نہیں‌  سکتا

مجھے انسانیت کا درد بھی بخشا ہے قدرت نے
مرا  مقصد  فقط  شعلہ  نوائی  ہو  نہیں  سکتا

جواں‌ ہوں میں، جوانی لغزشوں کا ایک طوفاں ہے
مری  باتوں‌  میں  رنگ  پارسائی  ہو   نہیں‌  سکتا

مرے سرکش ترانوں کی حقیقت  ہے، تو  اتنی  ہے
کہ جب میں‌دیکھتا ہوں‌بھوک کے مارے انسانو‌ں‌کو

غریبوں، مفلسوں‌کو، بےسکوں‌کو، بے سہاروں‌کو
سسکتی   نازنینوں   کو ،  تڑپتے    نوجوانوں‌   کو

حکومت کے  تشدد  کو ،  امارت  کے  تکبر  کو
کسی کے چیتھڑوں کو، اور شہنشاہی خزانوں کو

تو   دل   تابِ   بزم   عشرت   لا   نہیں   سکتا
میں چاہوں بھی تو خواب آور ترانے گا نہیں سکتا

اقبال - من ہیچ نمی ترسم از حادثۂ شب ہا

من ہیچ  نمی ترسم  از حادثۂ  شب  ہا
شبہا کہ سحر گردد از گردش کوکب ہا

نشناخت  مقام   خویش  افتاد  بدام  خویش
عشقی کہ نمودی خواست از شورش یارب ہا

آہی کہ ز دل خیزد از  بہر جگر سوزی است
در  سینہ  شکن  او  را  آلودہ  مکن  لب  ہا

در میکدہ باقی نیست از ساقی فطرت خواہ
آن می کہ نمی گنجد  در شیشۂ مشرب ہا

آسودہ نمی گردد آندل کہ گسست از دوست
با  قرأت  مسجد ہا   با   دانش  مکتب  ہا

نامعلوم - شیش محل میں رہنے والو ہم پر پتھر نہ پھینکو

شیش محل میں رہنے والو ہم پر پتھر نہ پھینکو
پتھر واپس لوٹیں گے تو شیش محل کا کیا ہو گا

نامعلوم - چند کلیاں نشاط کی چن کر


چند  کلیاں  نشاط  کی  چن کر
مدتوں  محوِ   یاس  رہتا   ہوں

تیرا ملنا  خوشی  کی  بات  سہی
تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں

اقبال - قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں

قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب  باہم  جو  نہیں ،  محفل ِ انجم بھی نہیں

تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے
نشہ   قے  کو  تعلق   نہیں   پیمانے   سے

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم ِ رسولِ ہاشمی

دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی

یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہانگیری ، محبت کی فراوانی

بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ  تورانی   رہے   باقی  ،  نہ   ایرانی  نہ  افغانی

ہوس نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا ، محبت  کی  زباں ہو جا

یہ ہندی ، وہ خراسانی ، یہ افغانی ، وہ تورانی
تو اے شرمندہ ساحل ، اچھل کر بیکراں ہوجا

ربط ملت و ضبط ملت بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نکتے سے  اب  تک  بے خبر

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر

نسل گر مسلم کی مذہب پر مقدم ہوگئی
اڑ گیا دنیا سے تو  مانند  خاک  رہ  گزر

اس دور میں قوموں کی محبت بھی ہوئی عام
پوشیدہ   نگاہوں   سے   رہی   وحدت   آدم

تفریق ملل حکمت افرنگ کا مقصود
اسلام  کا  مقصود  فقط  ملت  آدم

مکہ نے دیا خاک جینو ا کو یہ پیغام
جمعیت   اقوام   ہے  جمعیت   آدم

اقبال - دگرگوں ہے جہاں ، تاروں کی گردش تیز ہے ساقی

دگرگوں ہےجہاں ، تاروں کی گردش تیز ہےساقی
دل  ہر  ذرہ  میں غوغائے  رستا خیز   ہے  ساقی

متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی
یہ کس کافر ادا کا غمزۂ خوں ریز ہے ساقی

وہی دیرینہ بیماری ، وہی نا محکمی دل کی
علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی

حرم کے دل میں سوز  آرزو  پیدا نہیں ہوتا
کہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی

نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے
وہی  آب و  گل  ایراں ، وہی  تبریز  ہے  ساقی

فقیر راہ کو بخشے گئے اسرار سلطانی
بہا میری نوا کی دولت پرویز ہے ساقی

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت  زرخیز  ہے ساقی

اقبال - لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی


لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی
ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی!

تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند
اب مناسب ہے ترا فیض ہو  عام  اے ساقی

مری مینائے غزل میں  تھی  ذرا  سی  باقی
شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی

شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہی
رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی

عشق کی  تیغ  جگردار  اڑا  لی  کس  نے
علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی

سینہ روشن ہو تو ہے سوز سخن عین حیات
ہو نہ روشن ، تو سخن مرگ دوام اے ساقی

تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ
ترے پیمانے میں  ہے  ماہ  تمام  اے ساقی

اقبال - کتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موت


کتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موت
گلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موت

زلزلے ہیں، بجلیاں ہیں، قحط ہیں، آلام ہیں
کیسی کیسی دختران مادر ایام ہیں

کلبہ افلاس میں، دولت کے کاشانے میں موت
دشت و در میں شہر میں گلشن میں ویرانے میں موت

موت ہے ہنگامہ آرا قلزم خاموش میں
ڈوب جاتے ہیں سفینے موت کی آغوش میں

نے مجال شکوہ ہے، نے طاقت گفتار ہے
زندگانی کیا ہے، اک طوق گلو افشار ہے

قافلے میں غیر فریاد درا کچھ بھی نہیں
اک متاع دیدہ تر کے سوا کچھ بھی نہیں

اقبال - کیا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کی داستاں

کیا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کی داستاں
مجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و ساز

لے گئے تثلیث کے فرزند میراثِ خلیل
خشت بنیادِ کلیسا بن گئی خاک حجاز

ہوگئی رسوا زمانے میں کلاہِ لالہ رنگ
جو سراپا ناز تھے، ہیں آج مجبورِ نیاز

لے رہا ہے مے فروشانِ فرنگستاں سے پارس
وہ مۂ سرکش حرارت جس کی ہے مینا گداز

حکمتِ مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گاز

ہوگیا مانندِ آب ارزاں مسلماں کا لہو
مضطرب ہے تو کہ تیرا دل نہیں دانائے راز

گفت رومی ''ہر بناے کہنہ کآباداں کنند''
می ندانی ''اول آں بنیاد را ویراں کنند''

''ملک ہاتھوں سے گیا ملت کی آنکھیں کھل گئیں''
حق ترا چشمے عطا کردست غافل در نگر

مومیائی کی گدائی سے تو بہتر ہے شکست
مور بے پر! حاجتے پیشِ سلیمانے مبر

ربط و ضبطِ ملتِ بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر

پھر سیاست چھوڑ کر داخل حصارِ دیں میں ہو
ملک و دولت ہے فقط حفظِ حرم کا اک ثمر

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر

جو کرے گا امتیازِ رنگ و خوں ، مٹ جائے گا
ترک خرگاہی ہو یا اعرابی والا گہر

نسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہوگئی
اڑ گیا دنیا سے تو مانندِ خاکِ رہ گزر

تا خلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوار
لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر

اے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باش
اے گرفتارِ ابوبکر و علی ہشیار باش

عشق کو فریاد لازم تھی سو وہ بھی ہو چکی
اب ذرا دل تھام کر فریاد کی تاثیر دیکھ

تو نے دیکھا سطوتِ رفتارِ دریا کا عروج
موج مضطر کس طرح بنتی ہے اب زنجیر دیکھ

عام حریت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نے
اے مسلماں آج تو اس خواب کی تعبیر دیکھ

اپنی خاکستر سمندر کو ہے سامانِ وجود
مر کے پھر ہوتا ہے پیدا یہ جہانِ پیر، دیکھ

کھول کر آنکھیں مرے آئینۂ گفتار میں
آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ

آزمودہ فتنہ ہے اک اور بھی گردوں کے پاس
سامنے تقدیر کے رسوائیِ تدبیر دیکھ

مسلم استی سینہ را از آرزو آباد دار
ہر زماں پیش نظر، 'لایخلف المیعاد' دار

اقبال - اے تہی ازذوق و شوق وسوز و درد

اے تہی ازذوق و شوق وسوز و درد
می  شناسی  عصر  ما با ما چہ کرد

عصر ما ما را ز ما بیگانہ کرد
از جمال مصطفی بیگانہ کرد

در دل مسلم مقام مصطفی است
آبروئے   ما  ز  نام مصطفی است

اقبال - دلت می لرزد از اندیشہ مرگ

دلت می لرزد از اندیشہ مرگ
زبیمش  زرد  مانند  زریری

بخود باز آ، خودی را پختہ تر گیر
اگر گیری، پس از مردن نہ میری

دل بے باک را ضرغام رنگ است
دل ترسندہ  را   آہو  پلنگ است

اگر بیمی نداری، بحر صحر است
اگر ترسی بہر موجش نہنگ است

بہ  گوشم  آمد   از   خاک  مزارے
کہ در زیر زمیں ہم می تواں زیست

نفس دارد و لیکن جاں نہ دارد
کسے کو بر مراد دیگراں زیست

گر بہ اللہ الصمد دل بستہ ای
از حد اسباب بیروں جستہ ای

بندہ حق، بندہ اسباب نیست
زندگانی گردش دولاب نیست

اقبال کے نفس سے ہے لالے کی آگ تیز
ایسے غزل سرا کو چمن  سے  نکال  دو

نامعلوم ـ پاپوش میں لگائی کرن آفتاب کی


پاپوش میں لگائی کرن آفتاب کی
جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی

تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو میرے نامہٴ سیاہ میں ہے


اقبال - کتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موت

کتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موت
گلشن ہستی  میں مانند  نسیم  ارزاں ہے موت

زلزلے ہیں ، بجلیاں ہیں ، قحط ہیں ، آلام  ہیں
کیسی    کیسی    دختران    مادر    ایام    ہیں

کلبہ  افلاس  میں ،  دولت  کے  کاشانے  میں  موت
دشت و در میں شہر میں گلشن میں ویرانےمیں موت

موت   ہے  ہنگامہ آرا  قلزم  خاموش  میں
ڈوب جاتے ہیں سفینے موت کی آغوش میں

نے مجال شکوہ ہے، نے طاقت گفتار ہے
زندگانی کیا ہے، اک طوق گلو افشار ہے

قافلے میں غیر  فریاد  درا کچھ بھی نہیں
اک متاع دیدہ تر  کے سوا کچھ بھی نہیں