اردو اور فارسی شاعری سے انتخابات -------- Selections from Urdu and Farsi poetry

افتخار عارف ۔ بکھر جائیں گے کیا ہم جب تماشا ختم ہو گا

5/27/2014

بکھر جائیں گے کیا ہم جب تماشا ختم ہو گا
میرے معبود  آخر  کب  تماشا  ختم  ہو گا

چراغِ حجرہ  درویش  کی  بجھتی   ہوئی   لو
ہوا سے کہہ گئی ہے اب تماشا ختم ہو گا

کہانی میں نئے کردار  شامل  ہو  گئے   ہیں
نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہو گا

کہانی آپ  اُلجھی  ہے  کہ اُلجھائی  گئی  ہے
یہ عقدہ تب کُھلے گا  جب تماشا  ختم ہو گا


زمیں جب عدل سے بھر جاے گی نور علی نور
بنامِ   مسلک  و   مذہب   تماشا   ختم   ہو  گا


یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات
سحر  سے  پہلے   پہلے   سب   تماشا   ختم  ہو  گا

تماشا کرنے  والوں   کو  خبر  دی  جا  چکی  ہے
کہ پردہ کب گرے  گا  کب  تماشا  ختم  ہو گا

دلِِ  نا مطمئن  ایسا   بھی   کیا    مایوس   رہنا
جو خلق اُٹھی تو سب کرتب تماشا  ختم  ہو گا

مصطفی ۔ امید و بیم دست و بازوئے قاتل میں رہتے ہیں

5/24/2014

نذرِ داغ

اُمید و بیمِ دست و بازوئے قاتل میں رہتے ہیں
تمہارے چاہنے والے بڑی مشکل میں رہتے ہیں

نکل آ اب تو ان پردوں سے باہر، دُخترِ صحرا
کہ باہر کم ہیں وہ طوفان جو محمل میں رہتے ہیں

جنہیں دیکھا نہیں دنیا کی بے تعبیر آنکھوں نے
بہت سے لوگ ان خوابوں کے مستقبل میں رہتے ہیں

چلو افلاک کے زینوں پہ چڑھ کے عرش تک پہنچیں
کہ سید مصطفی زید ی اسی منزل میں رہتے ہیں

مصطفی ۔ تمام شہر پہ آسیب سا مسلط ہے

سایہ

تمام شہر پہ آسیب سا مسلط ہے
دھُواں دھُواں ہیں دریچے ہوا نہیں آتی
ہر ایک سمت سے چیخیں سنائی دیتی ہیں
صدائے ہم نفس و آشنا نہیں آتی

گھنے درخت، درو بام، نغمہ و فانوس
تمام سحر و طلسمات و سایہ و کابوس
ہر ایک راہ پر آوازِ پائے نا معلوم
ہر ایک موڑ پہ ارواحِ زِشت و بد کا جلوس

سفید چاند کی اجلی قبائے سیمیں پر
سیاہ و سرد کفن کا گماں گزرتا ہے
فَضا کے تخت پہ چمگادڑوں کے حلقے ہیں
کوئی خلا کی گھنی رات سے اترتا ہے

تمام شہر پہ آسیب سا مسلط ہے
کوئی چراغ جلاؤ، کوئی حدیث پڑھو

کوئی چراغ بہ رنگِ عذارِ لالہ رخاں
کوئی حدیث باندازِ صدقۂ دل و جاں
کوئی کِرن پئے تزئینِ غُرفہ و محراب
کوئی نوا پئے درماندگاں و سوختہ جاں

سنا ہے عالمِ روحانیاں کے خانہ بدوش
سحر کی روشنیوں سے گریز کرتے ہیں

سحر نہیں ہے تو مشعل کا آسرا لاؤ
لبوں پہ دل کی سلگتی ہوئی دعا لاؤ
دلوں کے غسلِ طہارت کے واسطے جا کر
کہیں سے خونِ شہیدانِ نینوا لاؤ

ہر اک قبا پہ کثافت کے داغ گہرے ہیں
لہو کی بوند سے یہ پیرہن دھلیں تو دھلیں
ہوا چلے تو چلے بادباں کھلیں تو کھلیں

ناصر ۔ جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے

5/13/2014


جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے
سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے

اس کے دل پر بھی کڑی عشق میں گزری ہو گی
نام جس نے بھی محبت کا سزا رکھا ہے

پتھروں آج میرے سر پر برستے کیوں ہو
میں نے تم کو بھی کبھی اپنا خدا رکھا ہے

اب میری دید کی دنیا بھی تماشائی ہے
تو نے کیا مجھ کو محبت میں بنا رکھا ہے

غم نہیں گل جو
کیٔے گھر کے ہواؤں نے چراغ
ہم  نے  دل  کا   بھی دیا  ایک جلا  رکھا  ہے

پی  جا  ایام کی تلخی  کو بھی  ہنس  کر  ناصر
غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزہ رکھا ہے

نامعلوم ۔ اے آتش تبسم و اے شبنم جمال


اے آتشِ تبسم و اے شبنمِ جمال

خاموش آنسووں کی طرح جل رہے ہیں ہم

تجھ کو خبر نہ ہو گی کہ دانش کے باوجود

برسوں تیری خیال میں پاگل رہے ہیں ہم

ہر بزمِ رنگ و رقص میں شرکت کے ساتھ ساتھ

تنہا رہے ہیں اور سرِ مقتل رہے ہیں ہم

دیکھا ہے تو نے ہم کو بہاراں کے روپ میں

مجروح قافلے کی طرح چل رہے ہیں ہم

سب سے عزیز دوست کی خوشیوں کی راز دار

زخموں کی داستانِ مفصل رہے ہیں ہم

سب سے بڑے گناہ کی حسرت کے رو برو

تیرے لیے خلوصِ مسلسل رہے ہیں ہم

نامعلوم ۔ غازی بنے رہے سبھی عالی بیان لوگ


غازی بنے رہے سبھی عالی بیان لوگ
پہنچے سرِ صلیب فقط بے نشان لوگ

اخلاقیاتِ عشق میں شامل ہے یہ نیاز
ہم ورنہ عادتاً ہیں بہت خود گمان لوگ

چھوٹی سی اک شراب کی دکان کی طرف
گھر سے چلے ہیں سن کے عشاء کی اذان لوگ

دل اک دیارِ رونق وَرم ہے لٹا ہوا
گزرے اس طرف سے کئی مہربان لوگ

اے دل انہی کے طرزِ تکلم سے ہوشیار
اس شہر میں ملیں گے کئی بے زبان لوگ

آیا تھا کوئی شام سے واپس نہیں گیا
مُڑ مُڑ کے دیکھتے ہیں ہمارا مکان لوگ

ان سے جنہیں کنوئیں کے سوا کچھ خبر نہیں
مغرب کا طنز سنتے ہیں ہم نوجوان لوگ

عثمانِ مروندی - نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم

5/01/2014


نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم
مگر نازم بہ ایں ذوقے کہ پیشِ یار می رقصم

تو ہر دم می سرائی نغمہ و ہر بار می رقصم
بہ ہر طرزِ کہ می رقصانیَم اے یار می رقصم

تُو آں قاتل کہ از بہرِ تماشا خونِ من ریزی
من آں بسمل کہ زیرِ خنجرِ خوں خوار می رقصم

بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہِ جانبازاں
بہ صد سامانِ رسوائی سرِ بازار می رقصم

اگرچہ قطرۂ شبنم نہ پویَد بر سرِ خارے
منم آں قطرۂ شبنم بہ نوکِ خار می رقصم

خوش آں رندی کہ پامالش کنم صد پارسائی را
زہے تقویٰ کہ من با جبّہ و دستار می رقصم

منم عثمانِ مروندی کہ یارے شیخ منصورم
ملامت می کند خلقے و من بر دار می رقصم

ولی الدین - بہ گرد مرکز خود صورت پرکار می رقصم


بہ گردِ مرکزِ خود صورتِ پرکار می رقصم
محیطِ بے کرانم من قلندر وار می رقصم

چو اندر این وجودے خود مقامِ یار می بینم
ہزاراں پردہا چاکم ہزاراں‌ بار می رقصم

منم بے تاب و بے صبرم قتیلِ نظرِ‌ بے باکم
بچشمِ شوخِ آں‌ شوخے پئے دیدار می رقصم

حیائے شانِ بے چُونم متاعِ کنز مخفی ام
ز انوارِ تجلائے سرِ بازار می رقصم

اگرچہ رشتہ جانے و جاناں سر پنہانم
خوشا آں حلقہ گیسو کہ من بردار می رقصم

جلائے آبِ شمشیرم ضیائے درِ مکنونم
سراپا کیف و مستی ام قلندر دار می رقصم

ولی را خود نمی دانم نثارِ‌لذت ہوئم
اگرچہ لامکاں دارم پئے اظہار می رقصم

از ولی الدین