اردو اور فارسی شاعری سے انتخابات -------- Selections from Urdu and Farsi poetry

اقبال - وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو گسوں میں

2/23/2013


وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو گسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسم شاہبازی

بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی 
مجھے  بتا  تو سہی اور  کافری  کیا  ہے 








انیس - خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم


خیال  خاطر   احباب  چاہیے  ہر دم 
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

غالب - کیوں نہ ٹھہریں ہدف ناوک بیدار کہ ہم


کیوں نہ ٹھہریں ہدف ناوک بیدار کہ ہم
آپ اٹھا لاتے ہیں جو تیر قضا ہوتا ہے 


اقبال - سخت باریک ہیں امراض امم کے اسباب


سخت باریک ہیں امراض امم کے اسباب 
کھول کر کہئے تو کرتا ہے بیاں کوتاہی 

دین شیری میں غلاموں کے امام اور شیوخ 
دیکھتے ہیں فقط اک فلسفہ روباہی 

ہو اگر قوت فرعون کی درپردہ مرید 
قوم کے حق میں ہے لعنت وہ کلیم اللٰہی 

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق

من اے میر امم از تو داد خواہم
مرا یاراں غزل خوانے شمارند


خوش آگئی ہے جہاں کو قلندری میری
وگرنہ شعر کیا ہے مرا اور شاعری کیا ہے

یہی شیخ حرم ہے کہ جو چرا کر بیچ کھاتا ہے
گلیم بوذرو دلق اویس و چادر زہرا

حضور!ْ نذر کو ایک آبگینہ لایا ہوں
جو چیز اس میں ہے جنت میں بھی نہیں ملتی

طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں
جھلکتی ہے تیری امت کی آبرو اس میں

بھروسہ کر نہیں کرسکتے غلاموں کی بصیرت پر
جسے زیبا کہیں آزاد بندے، ہے وہی زیبا 


طارق - ہم وہ سیاہ بخت ہیں طارق کہ شہر میں


ہم وہ سیاہ بخت ہیں طارق کہ شہر میں
کھولیں دوکان کفن کی سب مرنا چھوڑ دیں

اقبال - خلق خدا کی گھات میں رند و فقیہہ و میر و پیر


خلق خدا کی  گھات  میں رند و فقیہہ و میر و پیر 
تیرے جہاں میں ہے وہی گردش صبح و شام ابھی 


اقبال - کشت دہقانان بہ بیاباں فروختند


کشت  دہقانان  بہ   بیاباں  فروختند 
قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند

رو میں رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے


رو میں رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں 


حفیظ - ابھی تو میں جوان ہوں

ابھی تو میں جوان ہوں 

ہوا بھی خوش گوار ہے 
گلوں پہ بھی نکھار ہے 
ترنّمِ ہزار ہے 
بہارِ پُر بہار ہے 

کہاں چلا ہے ساقیا 
اِدھر تو لوٹ، اِدھر تو آ 
یہ مجھ کو دیکھتا ہے کیا 
اٹھا سبُو، سبُو اٹھا 

سبُو اٹھا، پیالہ بھر 
پیالہ بھر کے دے اِدھر 
چمن کی سمت کر نظر 
سماں تو دیکھ بے خبر 

وہ کالی کالی بدلیاں 
افق پہ ہو گئیں عیاں 
وہ اک ہجومِ مے کشاں 
ہے سوئے مے کدہ رواں 

یہ کیا گماں ہے بد گماں 
سمجھ نہ مجھ کو ناتواں 
خیالِ زہد ابھی کہاں 
ابھی تو میں جوان ہوں 

عبادتوں کا ذکر ہے 
نجات کی بھی فکر ہے 

جنون ہے ثواب کا 
خیال ہے عذاب کا 

مگر سنو تو شیخ جی 
عجیب شے ہیں آپ بھی 
بھلا شباب و عاشقی 
الگ ہوئے بھی ہیں کبھی 

حسین جلوہ ریز ہوں 
ادائیں فتنہ خیز ہوں 
ادائیں عطر بیز ہوں 
تو شوق کیوں نہ تیز ہوں 

نگار ہائے فتنہ گر 
کوئی اِدھر کوئی اُدھر 
ابھارتے ہوں عیش پر 
تو کیا کرے کوئی بشر 

چلو جی قصّہ مختصر 
تمھارا نقطۂ نظر 
درست ہے تو ہو مگر 

ابھی تو میں جوان ہوں 

نہ غم کشود بست کا 
بلند کا نہ پست کا 
نہ بود کا نہ ہست کا 
نہ وعدۂ الست کا 

امید اور یاس گم 
حواس گم، قیاس گم 
نظر کے آس پاس گم 
ہمہ بجز گلاس گم 

نہ مے میں کچھ کمی رہے 
قدح سے ہمدمی رہے 
نشست یہ جمی رہے 
یہی ہما ہمی رہے 

وہ راگ چھیڑ مطربا 
طرب فزا، الم رُبا 
جگر میں آگ دے لگا 
ہر ایک لپ پہ ہو صدا 
پلائے جا پلائے جا 

ابھی تو میں جوان ہوں 

یہ گشت کوہسار کی 
یہ سیر جوئبار کی 

یہ بلبلوں کے چہچہے 
یہ گل رخوں کے قہقہے 

کسی سے میل ہو گیا 
تو رنج و فکر کھو گیا 
کبھی جو بخت سو گیا 
یہ ہنس گیا وہ رو گیا 

یہ عشق کی کہانیاں 
یہ رس بھری جوانیاں 
اِدھر سے مہربانیاں 
اُدھر سے لن ترانیاں 

یہ آسمان یہ زمیں 
نظارہ ہائے دل نشیں 
انھیں حیات آفریں 
بھلا میں چھوڑ دوں یہیں 
ہے موت اس قدر قریں 
مجھے نہ آئے گا یقیں 
نہیں نہیں ابھی نہیں 

ابھی تو میں جوان ہوں 

ساحر - یہ فصل گل کہ جسے نفرتوں نے سینچا ہے

یہ فصل گل کہ جسے نفرتوں نے سینچا ہے
اگر پھلی تو شراروں کے پھول لائے گی

نہ پھل سکی تو نئ فصل گل کے آنے تک
ضمیر ارض میں اک زہر گھول جاۓ گی

شاہدہ حسن - مرا نشیمن بکھر نہ جائے، ہوا قیامت کی چل رہی ہے


مرا  نشیمن  بکھر نہ  جائے، ہوا قیامت  کی چل  رہی  ہے
جو خواب زندہ ہے مر نہ جائے، ہوا قیامت کی چل رہی ہے

نہ جانے کیوں اضطرار سا ہے، ہر اِک پل بے قرار سا ہے
یہ خوف دل میں اُتر نہ جائے، ہوا قیامت کی چل رہی ہے

عجب سی ساعت ہے آج سر پر، کہ آنچ آئی ہوئی ہے گھر پر
دعا کہیں بے اثر نہ  جائے ،  ہوا  قیامت کی چل  رہی  ہے

یہ سجدہ گاہیں یہ فرش و منبر، جو ہیں ہمارے ہی خون سے تر
لہو کی یہ رُت ٹھہر نہ جائے ، ہوا قیامت  کی  چل  رہی  ہے

یہ کن دکھوں میں سلگ رہے ہیں،دماغ بارود لگ رہے ہیں
رگوں میں یہ زہر بھر نہ جائے، ہوا قیامت کی چل رہی ہے

رُتوں کے تیور نہیں ہیں اچھے، بدل چکے دوستوں کے لہجے
یہ سیلِ نفرت بپھر نہ جائے، ہوا قیامت کی چل رہی ہے

نشانِ منزل تو ہے فروزاں مگر ہم ایسے مسافروں کی
کہیں اُسی پر نظر نہ جائے، ہوا قیامت کی چل رہی ہے

رفاقتوں کا خیال  رکھنا، دلوں  کو پیہم  سنبھال  رکھنا
بچھڑ کوئی ہم سفر نہ جائے، ہوا قیامت کی چل رہی ہے

سدا مُقدّم ہے تیری حُرمت، مرے وطن تورہے سلامت
وفا کا احساس مر نہ جائے، ہوا قیامت کی چل رہی ہے


بلھے شاہ - حجرے شاہ مقیم دے اک جٹی عرض کرے


حجرے شاہ مقیم دے اک جٹی عرض کرے
میں بکرا دیواں پیر دا جے سر دا سائیں مرے

ہٹی سڑے کراڑ دی جتھے دیوا نت بلے
کتی مرے فقیر دی، جیڑی چوں چوں نت کرے 

پنج ست مرن گوانڈھناں، رہندیاں نوں تاپ چڑھے
گلیاں ہو جان سنجیاں، وچ مرزا یار پھرے


شاہ مقیم کے دربار میں ایک دہقان زادی عرض گزار ہے
میں ایک بکرے کی قربانی دوں، اگر میرے شوہر کو قضا اچک لے جائے ۔
 بنیے کی دوکان کو آگ لگ جائے کہ جہاں چراغ جلتا رہتا ہے۔
 فقیر کی کتیا مر جائے جو ہمیشہ راہگیروں پر بھونکتی ہے۔
 پانچ سات پڑوسنیں مر جائیں، باقی بیمار ہوں۔
 گلیاں ویران ہوجائیں اور ان میں میرا محبوب بے خوف گھومتا پھرے

متفرقات - قریب آؤ دریچوں سے جھانکتی کرنو

قریب آؤ  دریچوں  سے  جھانکتی  کرنو
کہ ہم تو پا بہ رسن ہیں ابھر نہیں سکتے
...
ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمہ گل
یہی  ہے فصل بہاری یہی ہے باد مراد
....
جیسے پت جھڑ کے درختوں کی سمٹتی چھاؤں
جیسے آسیب زدہ شہر  کے سہمے ہوئے  گھر

امیر الاسلام ہاشمی - اقبال ترے دیس کا کیا حال سناؤں

دہقان تو مر کھپ گیا اب کس کو جگاؤں
ملتا ہے کہاں خوشہٴ گندم کہ جلاؤں
شاہین کا ہے گنبد شاہی پہ بسیرا
کنجشک فرو مایہ کو اب کس سے لڑاؤں
اقبال ترے دیس کا کیا حال سناؤں

ہر داڑھی میں تنکا ہے تو ہر آنکھ میں شہتیر
مومن کی نگاہوں سے بدلتی نہیں تقدیر
توحید کی تلوار سے خالی ہیں نیامیں
اب ذوق یقیں سے نہیں کٹتی کوئی زنجیر
اقبال ترے دیس کا کیا حال سناؤں

شاہیں کا جہاں آج بھی کرگس کا جہاں ہے
ملتی ہوئی مُلا سے مجاہد کی اذاں ہے
مانا کہ ستاروں سے بھی آگے ہیں جہاں اور
شاہیں میں مگر طاقت پرواز کہاں ہے
اقبال ترے دیس کا کیا حال سناؤں

مَر مَر کی سِلوں سے کوئی بے زار نہیں ہے
رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے
کہنے کو ہر اک شخص مسلمان ہے لیکن
دیکھو تو کہیں نام کو کردار نہیں ہے
اقبال ترے دیس کا کیا حال سناؤں

بیباکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن
مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو
وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومن
اقبال ترے دیس کا کیا حال سناؤں

پیدا کبھی ہوتی تھی سحر جس کی اذاں سے
اس بندہ مومن کو میں اب لاؤں کہاں سے
وہ سجدہ، زمیں جس سے لرز جاتی تھی یارو
اک بار تھا، ہم چھٹ گئے اس بار گراں سے
اقبال ترے دیس کا کیا حال سناؤں

جھگڑے ہیں یہاں صوبوں کے، ذاتوں کے، نسب کے
اگتے ہیں تہِ سایہٴ گل، خار غضب کے
یہ دیس ہے سب کا، مگر اس کا نہیں کوئی
اس کے تن خستہ پہ تو اب دانت ہیں سب کے
اقبال ترے دیس کا کیا حال سناؤں

محمودوں کی صف آج ایازوں سے پرے ہے
جمہور سے سلطانیٴ جمہور ڈرے ہے
تھامے ہوئے دامن ہے یہاں پر جو خودی کا
مر، مر کے جئے جائے ہے، جی، جی کے مرے ہے
اقبال ترے دیس کا کیا حال سناؤں

دیکھو تو ذرا محلوں کے پردوں کو اٹھا کر
شمشیرو سناں رکھی ہیں طاقوں پہ سجا کر
آتے ہیں نظر مسند شاہی پہ رنگیلے
تقدیر امم سو گئی طاؤس پہ آکر
اقبال ترے دیس کا کیا حال سناؤں

مکاری و عیاری و غداری و ہیجان
اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان
قاری اسے کہنا تو بڑی بات ہے یارو
اس نے تو کبھی کھول کے دیکھا نہیں قرآن
اقبال ترے دیس کا کیا حال سناؤں

کردار کا گفتار کا اعمال کا مومن
قائل نہیں ایسے کسی جنجال کا مومن
سرحد کا ہے مومن کوئی بنگال کا مومن
ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن
اقبال ترے دیس کا کیا حال سناؤں 

اقبال - شہیدِ نازِ اُو بزمِ وجود است

شہیدِ  نازِ اُو بزمِ   وجود است 
نیاز اندر نہادِ ہست و بود است

نمی بینی كہ از  مہرِ  فلك  تاب 
بسیما ٴے سحر داغِ سجُود است 

پلہ مار کے بجھا گئی اے دیوا

  
پلہ مار کے بجھا گئی اے دیوا
انج ساڈے کولوں گھنڈ کڈ دی



ساحر - ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں‌ہیں؟

چکلے

یہ کوچے یہ نیلام گھر دلکشی کے
یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے
 کہاں ہیں؟ کہاں‌ ہیں محافظ خودی کے
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں‌ہیں؟

یہ پرپیچ گلیاں یہ بے خواب بازار
یہ گمنام راہی یہ سکوں کی جھنکار
یہ عصمت کے سودے یہ سودوں پہ تکرار
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں‌ہیں؟

تعفن سے پر نیم روشن یہ گلیاں
یہ مسلی ہوئی ادھ کھلی زرد کلیاں
یہ بکتی ہوئی کھوکھلی رنگ رلیاں
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں‌ہیں؟

وہ اجلے دریچوں میں پائل کی چھن چھن
تنفس کی الجھن پہ طبلے کی دھن دھن
یہ بے روح‌کمروں‌میں کھانسی کی ٹھن تھن
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں‌ہیں؟

یہ گونجے ہوئے قہقہے راستوں‌پر
یہ چاروں‌طرف بھیڑ سی کھڑکیوں‌پر
یہ آوازے کھنچتے ہوئے آنچلوں‌پر
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں‌ہیں؟

یہ پھولوں کے گجرے یہ پیکوں‌کے چھینٹے
یہ بے باک نظریں یہ گستاخ فقرے
یہ ڈھلکے بدن اور یہ مدقوق چہرے
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں‌ہیں؟

یہ بھوکی نگاہیں حسینوں‌کی جانب
یہ بڑھتے ہوئے ہاتھ سینوں ‌کی طرف
لپکتے ہوئے پاؤں زینوں‌کی جانب
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں‌ہیں؟

یہاں پیر بھی آچکے ہیں جواں بھی
تنومند بیٹے بھی، ابا میاں‌ بھی
یہ بیوی بھی ہے اور بہن بھی ہے ماں‌ بھی
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں‌ہیں؟

مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی
یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
پیمبر کی امت، زلیخا کی بیٹی
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں‌ہیں؟

ذرا ملک کے رہبروں‌کو بلاؤ
یہ کوچھے، یہ گلیاں، یہ منظر دکھاؤ
ثنا خوان تقدیس مشرق کو لاؤ
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں‌ہیں؟

ساحرلدہیانوی - تاج، تیرے لئے اک مظہرالفت ہی سہی

تاج، تیرے لئے اک مظہرِ اُلفت ہی سہی
تُجھ کو اس وادئ رنگیں‌سے عقیدت ہی سہی

میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے
بزمِ شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی؟
ثبت جس راہ پہ ہوں سطوتِ شاہی کے نشاں
اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی؟

مری محبوب پسِ پردہِ تشہیر وفا
توسطوت کےنشانوں کےمقابر سےبہلنےوالی
مُردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی
اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا

ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے
کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے
لیکن ان کے لئے تشہیر کا ساماں نہیں
کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے

یہ عمارات و مقابر، یہ فصیلیں، یہ حصار
مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں
سینہ دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسور
جذب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں

میری محبوب انہیں بھی تو محبت ہوگی
جن کی صنائی نے بخشی ہے اسے شکلِ جمیل
ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود
آج تک ان پہ چلائی نہ کسی نے قندیل

یہ چمن زار، یہ جمنا کا کنارہ یہ محل
یہ منقش درودیوار، یہ محراب، یہ طاق
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے

ساحر - طرب زاروں پر کیا بیتی صنم خانوں پہ کیا گزری


طرب زاروں پر کیا بیتی صنم خانوں پہ کیا گزری
دل زندہ ترے مرحوم ارمانوں پہ کیا گزری

زمیں نے خون اگلا آسماں نے آگ برسائی 
جب انسانوں کے دل بدلے تو انسانوں پہ کیا گزری 

یہ منظر کون سا منظر ہے، پہچانا نہیں جاتا 
سیہ خانوں سے کچھ پوچھو شبستانوں پہ کیا گزری 

چلو وہ کفر کے گھر سے سلامت آگئے لیکن 
خدا کی مملکت میں سوختہ جانوں پہ کیا گزری


ساحرلدہیانوی - نورجہاں کے مزار پر

سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے
چاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھے

اس شام مجھے معلوم ہوا کھیتوں کی طرح اس دنیا میں
سہمی ہوئی دوشیزاؤں کی مسکان بھی بیچی جاتی ہے

اس شام مجھے معلوم ہوا، اس کارگہ زرداری میں
دو بھولی بھالی روحوں کی پہچان بھی بیچی جاتی ہے

اس شام مجھے معلوم ہوا جب باپ کی کھیتی چھن جائے
ممتا کے سنہرے خوابوں کی انمول نشانی بکتی ہے

اس شام مجھے معلوم ہوا جب بھائی جنگ میں کام آئیں
سرمائے کے قحبہ خانے میں بہنوں کی جوانی بکتی ہے

اقبال - در حضور شاه همدان


در حضور شاه همدان

زنده رود
از تو خواهم سر یزدان را کلید

طاعت از ما جست و شیطان آفرید

زشت و ناخوش را چنان آراستن
در عمل از ما نکوئی خواستن

از تو پرسم این فسون سازی که چه
با قمار بدنشین بازی که چه

مشت خاک و این سپهر گرد گرد
خود بگو می زیبدش کاری که کرد

کار ما ، افکار ما ، آزار ما
دست با دندان گزیدن کار ما

شاه همدان

بنده ئی کز خویشتن دارد خبر
آفریند منفعت را از ضرر

بزم با دیو است آدم را وبال
رزم با دیو است آدم را جمال

خویش را بر اهرمن باید زدن
تو همه تیغ آن همه سنگ فسن

تیز تر شو تا فتد ضرب تو سخت
ورنه باشی در دو گیتی تیره بخت

زنده رود
زیر گردون آدم آدم را خورد
ملتی بر ملتی دیگر چرد

جان ز اهل خطه سوزد چون سپند
خیزد از دل ناله های دردمند

زیرک و دراک و خوش گل ملتی است
در جهان تر دستی او آیتی است


ساغرش غلطنده اندر خون اوست


در نی من ناله از مضمون اوست


از خودی تا بی نصیب افتاده است


در دیار خود غریب افتاده است


دستمزد او بدست دیگران


ماهی رودش به شست دیکران


کاروانها سوی منزل گام گام


کار او نا خوب و بی اندام و خام


از غلامی جذبه های او بمرد


آتشی اندر رگ تاکش فسرد


تا نپنداری که بود است اینچین


جبهه را همواره سود است اینچنین


در زمانی صف شکن هم بوده است


چیره و جانباز و پر دم بوده است


کوههای خنگ سار او نگر


آتشین دست چنار او نگر


در بهاران لعل میریزد ز سنگ


خیزد از خاکش یکی طوفان رنگ


لکه های ابر در کوه و دمن


پنبه پران از کمان پنبه زن


کوه و دریا و غروب آفتاب


من خدارا دیدم آنجا بی حجاب


با نسیم آواره بودم در نشاط


«بشنو از نی» می سرودم در نشاط


مرغکی می گفت اندر شاخسار


با پشیزی می نیرزد این بهار


لاله رست و نرگس شهلا دمید


باد نو روزی گریبانش درید


عمرها بالید ازین کوه و کمر


نستر از نور قمر پاکیزه تر


عمر ها گل رخت بر بست و گشاد


خاک ما دیگر شهاب الدین نزاد


نالهٔ پر سوز آن مرغ سحر


داد جانم را تب و تاب دگر


تا یکی دیوانه دیدم در خروش


آنکه برد از من متاع صبر و هوش


«بگذر ز ما و نالهٔ مستانه ئی مجوی


بگذر ز شاخ گل که طلسمی است رنگ و بوی


گفتی که شبنم از ورق لاله می چکد


غافلی دلی است اینکه بگرید کنار جوی


این مشت پر کجا و سرود اینچنین کجا


روح غنی است ماتمی مرگ آرزوی


باد صبا اگر به جنیوا گذر کنی،


حرفی ز ما به مجلس اقوام باز گوی


دهقان و کشت و جوی و خیابان فروختند


قومی فروختند و چه ارزان فروختند»


شاه همدان


با تو گویم رمز باریک ای پسر


تن همه خاک است و جان والا گهر


جسم را از بهر جان باید گداخت


پاک را از خاک می باید شناخت


گر ببری پارهٔ تن را ز تن


رفت از دست تو آن لخت بدن


لیکن آن جانی که گردد جلوه مست


گر ز دست او را دهی آید بدست


جوهرش با هیچ شی مانند نیست


هست اندر بند و اندر بند نیست


گر نگهداری بمیرد در بدن


ور بیفشانی ، فروغ انجمن


چیست جان جلوه مست ای مرد راد


چیست جان دادن ز دست ایمرد راد


چیست جان دادن بحق پرداختن


کوه را با سوز جان بگداختن


جلوه مستی خویش را دریافتن


در شبان چون کوکبی بر تافتن


خویش را نایافتن نابودن است


یافتن خود را بخود بخشودن است


هر که خود را دید و غیر از خود ندید


رخت از زندان خود بیرون کشید


جلوه بد مستی که بیند خویش را


خوشتر از نوشینه و داند نیش را


در نگاهش جان چو باد ارزان شود


پیش او زندان او لرزان شود


تیشهٔ او خاره را بر می درد


تا نصیب خود ز گیتی می برد


تا ز جان بگذشت جانش جان اوست


ورنه جانش یکدو دم مهمان اوست


زنده رود


گفته ئی از حکمت زشت و نکوی


پیر دانا نکتهٔ دیگر بگوی


مرشد معنی نگاهان بوده ئی


محرم اسرار شاهان بوده ئی


ما فقیر و حکمران خواهد خراج


چیست اصل اعتبار تخت و تاج


شاه همدان


اصل شاهی چیست اندر شرق و غرب


یا رضای امتان یا حرب و ضرب


فاش گویم با تو ای والا مقام


باج را جز با دو کس دادن حرام


یا «اولی الامری» که «منکم» شأن اوست


آیهٔ حق حجت و برهان اوست


یا جوانمردی چو صرصر تند خیز


شهر گیر و خویش باز اندر ستیز


روز کین کشور گشا از قاهری


روز صلح از شیوه های دلبری


می توان ایران و هندوستان خرید


پادشاهی را ز کس نتوان خرید


جام جم را ای جوان باهنر


کس نگیرد از دکان شیشه گر


ور بگیرد مال او جز شیشه نیست


شیشه را غیر از شکستن پیشه نیست


غنی


هند را این ذوق آزادی که داد


صید را سودای صیادی که داد


آن برهمن زادگان زنده دل


لالهٔ احمر ز روی شان خجل


تیزبین و پخته کار و سخت کوش


از نگاهشان فرنگ اندر خروش


اصلشان از خاک دامنگیر ماست


مطلع این اختران کشمیر ماست


خاک ما را بی شرر دانی اگر


بر درون خود یکی بگشا نظر


اینهمه سوزی که داری از کجاست


این دم باد بهاری از کجاست


این همان باد است کز تأثیر او


کوهسار ما بگیرد رنگ و بو


هیچ میدانی که روزی در ولر


موجه ئی می گفت با موج دگر


چند در قلزم به یکدیگر زنیم


خیز تا یک دم بساحل سر زنیم


زادهٔ ما یعنی آن جوی کهن


شور او در وادی و کوه و دمن


هر زمان بر سنگ ره خود را زند


تا بنای کوه را بر می کند


آن جوان کو شهر و دشت و در گرفت


پرورش از شیر صد مادر گرفت


سطوت او خاکیان را محشری است


این همه از ماست، نی از دیگری است


زیستن اندر حد ساحل خطاست


ساحل ما سنگی اندر راه ماست


با کران در ساختن مرگ دوام


گرچه اندر بحر غلتی صبح و شام


زندگی جولان میان کوه و دشت


ای خنک موجی که از ساحل گذشت


ایکه خواندی خط سیمای حیات


ای به خاور داده غوغای حیات


ای ترا آهی که می سوزد جگر


تو ازو بیتاب و ما بیتاب تر


ای ز تو مرغ چمن را های و هو


سبزه از اشک تو می گیرد وضو


ایکه از طبع تو کشت گل دمید


ای ز امید تو جانها پر امید


کاروانها را صدای تو درا


تو ز اهل خطه نومیدی چرا


دل میان سینهٔ شان مرده نیست


اخگر شان زیر یخ افسرده نیست


باش تا بینی که بی آواز صور


ملتی بر خیزد از خاک قبور


غم مخور ای بندهٔ صاحب نظر


بر کش آن آهی که سوزد خشک و تر


شهر ها زیر سپهر لاجورد


سوخت از سوز دل درویش مرد


سلطنت نازکتر آمد از حباب


از دمی او را توان کردن خراب


از نوا تشکیل تقدیر امم


از نوا تخریب و تعمیر امم


نشتر تو گرچه در دلها خلید


مر ترا چونانکه هستی کس ندید


پردهٔ تو از نوای شاعری است


آنچه گوئی ماورای شاعری است


تازه آشوبی فکن اندر بهشت


یک نوا مستانه زن اندر بهشت


زنده رود


با نشئه درویشی در ساز و دمادم زن


چون پخته شوی خود را بر سلطنت جم زن


گفتند جهان ما آیا بتو می سازد


گفتم که نمی سازد گفتند که برهم زن


در میکده ها دیدم شایسته حریفی نیست


با رستم دستان زن با مغچه ها کم زن


ای لاله صحرائی تنها نتوانی سوخت


این داغ جگر تابی بر سینه آدم زن


تو سوز درون او تو گرمی خون او


باور نکنی چاکی در پیکر عالم زن


عقل است چراغ تو در راهگذاری نه


عشق است ایاغ تو با بندهٔ محرم زن


لخت دل پر خونی از دیده فرو ریزم


لعلی ز بدخشانم بردار و بخاتم زن

متفرقات - خوشبوؤں کا اک نگر آباد ہو نا چاہئے

خوشبوؤں کا اک نگر آباد ہو نا چاہئے 
اس نظامِ زر کو اب برباد ہونا چاہئے

ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں 
دل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہئے


-------------------
 
لگتا ہے بہت دیر رکے گی میرے گھر میں
اس رات کی آنکھوں میں شناسائی بہت ہے

فیض -سوچنے دو ( آندرے وز بیسن سکی کے نام)

اک ذرا سوچنے دو
اس خیاباں میں
جو اس لحظہ بیاباں بھی نہیں
کون سی شاخ میں پھول آئے تھے سب سے پہلے
کون بے رنگ ہوئی رنگ و تعب سے پہلے
اور اب سے پہلے
کس گھڑی کون سے موسم میں یہاں
خون کا قحط پرا
گل کی شہ رگ پہ کڑا
وقت پڑا
سوچنے دو
اک ذرا سوچنے دو
یہ بھرا شہر جو اب وادئ ویراں بھی نہیں
اس میں کس وقت کہاں
آگ لگی تھی پہلے
اس کے صف بستہ دریچوں میں سے کس میں اول
زہ ہوئی سرخ شعاعوں کی کمال
کس جگہ جوت جگی تھی پہلے
سوچنے دو
ہم سے اس دیس کا تم نام ونشاں پوچھتے ہو
جس کی تاریخ نہ جغرافیہ اب یاد آئے
اور یاد آئے تو محبوبِ گزشتہ کی طرح
روبرو آنے سے جی گھبرائے
ہاں مگر جیسے کوئی
ایسے محبوب یا محبوبہ کا دل رکھنے کو
آنکلتا ہے کبھی رات بتانے کے لئے
ہم اب اس عمر کو آ پہنچے ہیں جب ہم بھی یونہی
دل سے مل آتے ہیں بس رسم نبھانے کے لئے
دل کی کیا پوچھتے ہو
سوچنے دو

حافظ - رسيد مژدہ کہ ايّامِ غم نخواہد ماند

رسيد  مژدہ  کہ ايّامِ غم  نخواہد  ماند
چنان نماند و چنين نيز ہم نخواہد ماند

توانگر ! دلِ درويش خود بہ دست آوَر
کہ مخزنِ زر و گنج و درم نخواہد ماند

سَحَر، کرشمہء صُحَبم بشارتي خوش داد
کہ  کس  ہميشہ  گرفتارِ غم  نخواہد  ماند

زِ  مہربانيِ  جانان  طَمَع  مَبُر  حافظ
کہ نقشِ جور و نشانِ ستم نخواہد ماند

خوشخبري پہنچي ہے کہ غم کے دن نہيں رہيں گے
وہ دن بھي نہيں رہے اور يہ بھي نہيں رہيں گے

اے دولت مند! اپنے درويش کا دل جيت لے
کہ سونے اور درہم و دينار کے خزانے نہيں رہيں گے

سحر کے وقت صبح کے کرشمے نے اچھي خبر دي
کہ کوئي ہميشہ غم ميں گرفتار نہيں رہے گا

فظ! محبوب کي مہرباني کي اميد نہ چھوڑو
کيوں کہ ظلم و ستم کا نشان بھي باقي نہيں رہے گا

واعظوں ميں يہ تکبر کہ الہي توبہ

واعظوں ميں يہ تکبر کہ الہي توبہ
اپني ہر بات کو آواز خدا کہتے ہيں
…………………………
تري  نماز ميں  باقي  جلال  ہے نہ  جمال
تري اذاں ميں نہيں ہے مري سحر کا پيام
…………………………
دين کافر فکر و تدبير جہاد
دين ملا  في سبيل اللہ  فساد
…………………………
خبر نہيں کيا ہے نام اس کا خدا فريبي کہ خود فريبي
عمل  سے فارغ  ہوا مسلماں  بنا  کے تقدير  کا  بہانہ

اقبال - بوعلی اندر غبار ناقه گم


بوعلی  اندر  غبار  ناقه   گم
دست رومی پرده محمل گرفت

این فرو تر رفت و تا گوهر رسید
آن بگردابی چو خس منزل گرفت

حق اگر سوزی ندارد حکمت است
شعر میگردد چو سوز از دل گرفت

خسرو - بشگفت گل در بوستان آن غنچه‌ی خندان کجا؟

بشگفت گل در بوستان، آن غنچه‌ی خندان کجا؟
شد وقت عیش دوستان، آن لاله و ریحان کجا؟

هر بار کو در خنده شد، چون من هزارش بنده شد
صد مرده زان لب زنده شد، درد مرا درمان کجا؟

گویند ترک غم بگو، تدبیر سامانی بجو
درمانده را تدبیر کو، دیوانه را سامان کجا؟

از بخت روزی باطرب، خضر آب خورد و شست لب
جویان سکندر در طلب، تا چشمه‌ی حیوان کجا؟

می‌گفت با من هر زمان، گر جان دهی با من امان
من می برم فرمان بجان، آن یار بی فرمان کجا؟

گفتم : تویی اندر تنم، ما هست جان روشنم
گفتی که : آری آن منم، اگر آن تویی پس جان کجا؟

گفتی صبوری پیش کن، مسکینی از حد بیش کن
زینم از آن خویش کن، من کردم این و آن کجا؟

پیدا گرت بعد از مهی، درکوی ما باشد رهی
از نوک مژگان گه گهی، آن پرسش پنهان کجا؟

زین پیش با تو هر زمان، می‌بودمی از هم‌دمان
خسرو نه هست آخر همان ؟ آن عهد و آن پیمان کجا؟

اقبال - بہر ِ یک گل خون ِ صد گلشن کند

بہر ِ یک گل خون ِ صد گلشن کند
از پئی یک نغمہ، صد شیون  کند

عذر ِ این اسراف و این سنگین دلی
خلق و    تکمیل ِ    جمال ِ    معنوی

سوز ِ پیہم قسمتِ پروانہ ہا
شمع عذر ِ محنتِ پروانہ ہا

خامہ ئ او نقش ِ صد امروز بست
تا   بیارد   صبح ِ فردائی    بدست

شعلہ ہائ او، صد ابراہیم سوخت
تا چراغ ِ یک   محمد بر   فروخت

وسیم - کتنی گناہ گار ہے راتوں کی زندگی

کتنی گناہ گار ہے راتوں کی زندگی
دیکھو کسی چراغ کی آنکھوں میں جھانک کر

وسیم روٹھ  گئے ، تو روٹھ جانے دو
ذرا سی بات ہے ، بڑھ جا ئے گی منا نے سے

مشیر کاظمی - پھول لے کر گیا، آیا روتا ہوا


پھول لے کر گیا، آیا روتا ہوا
بات ایسی ہے کہنے کا یارا نہیں

قبرِ اقبال سے آرہی تھی صدا 
یہ وطن مجھ کو آدھا گوارا نہیں 

شہرِ ماتم تھا اقبال کا مقبرہ 
تھے عدم کے مسافر بھی آئے ہوئے 

خوں میں لت پت کھڑے تھے لیاقت علی 
رُوح ِقائد بھی سر کو جھکائے ہوئے 

چاند تارے کے پر چم میں لپٹے ہوئے 
چاند تارے کے لاشے بھی موجود تھے 

سرنگوں تھا قبر پہ مینارِ وطن 
کہہ رہاتھا کہ اے تاجدارِ وطن 

آج کے نوجواں کو بھلا کیا خبر 
کیسے قائم ہوا تھا حصارِ وطن

ظہیر کاشمیری - مجھے شادابی صحنِ چمن سے خوف آتا ہے



مجھے شادابی صحنِ چمن سے خوف آتا ہے

  
یہی انداز تھے جب لُٹ گئی تھی زندگی اپنی