اردو اور فارسی شاعری سے انتخابات -------- Selections from Urdu and Farsi poetry

مصطفی ـ یہ ہے میری کہانی

2/16/2014

اپنی تنہائیوں میں کوئی سایا بھی نہیں
کوئی اپنا بھی نہیں کوئی پرایا بھی نہیں
کسے آواز دوں، کسے آواز دوں
  ساری جھوٹی باتیں ہیں
دن اپنے نہ راتیں ہیں
پل پل ایک کہانی ہے
جو جیون بھر دہرانی ہے
کسے آواز دوں، کسے آواز دوں
  چہرے کیا تصویریں ہیں
نہ خواب ہیں نہ تعبیریں ہیں
آس ہے جو کہ جیون ہے
الجھا الجھا بندھن ہے
کسے آواز دوں، کسے آواز دوں
  اپنی تنہائیوں میں کوئی سایا بھی نہیں
کوئی اپنا بھی نہیں کوئی پرایا بھی نہیں
کسے آواز دوں، کسے آواز دوں

مصطفی ـ مجھے یقیں تھا کہ تم نہیں ہو


مجھے یقیں تھا کہ تم نہیں ہو
تھکے ہوے کھڑکیوں کے چہرے 

جلی ہوئی آسماں کی رنگت
سیاہ آفاق تک بگولے 

لہو کے آتش فشاں کی ساعت
وجود پر ایک بوجھ سا تھا

نہ صبح وعدہ نہ شام فرقت
اسی مہیب آتشیں گھڑی میں 

کسی کی دستک سنی تو دل نے 
کہا کہ صحرا کی چوٹ کھائے

کوئی غریب الدیار ہو گا
یہ سچ کہ دل کی ہر ایک دھڑکن

تمہارے درشن کے واسطے تھی
حیات کا ایک ایک لمحہ

تمہاری آہٹ کا منتظر تھا
مگر ایک ایسے دیار غم میں 

جہاں کی ہر چیز خشمگیں ہو
مجھے یقیں تھا کہ تم نہیں ہو

مصطفی ـ روایتوں کی ہزار صدیوں


روایتوں کی ہزار صدیوں 
سے بڑھ کے یہ لمحہ حسیں ہے 

لہو میں پھولوں کے حاشئے ہیں 
اداس کاسے میں انگبیں ہے 

یہ تم ہو یہ ہونٹ ہیں یہ آنکھیں 
مجھے یقیں ہے، مجھے یقیں ہے

مصطفی ـ زمیں نئی تھی فلک نا شناس تھا جب ہم


زمیں نئی تھی فلک نا شناس تھا جب ہم
تری گلی سے نکل کر سوئے زمانہ چلے 
نظر جھکا کہ بہ اندازِ مجرمانہ چلے 

چلے بَجیب دریدہ، بہ دامنِ صَد چاک
کہ جیسے جنسِ دل و جاں گنوا کے آئے ہیں 
تمام نقدِ سیادت لٹا کہ آئے ہیں 

جہاں اک عمر کٹی تھی اسی قلمرو میں 
شناختوں کے لیئے ہر شاہراہ نے ٹوکا
ہر اک نگاہ کے نیزے نے راستہ روکا

مصطفی ـ پہلا پتھر


صبا ہمارے رفیقوں سے جا کے یہ کہنا
بہ صَد تشکر و اخلاص و حسن و خو ش ادبی

کہ جو سلوک بھی ہم پر روا ہوا اس میں 
نہ کو ئی رمز نہاں ہے نہ کوئی بوالعجبی

ہمارے واسطے یہ رات بھی مقدر تھی
کہ حرف آئے ستاروں پہ بے چراغی کا
لباس چاک پہ تہمت قبائے زریں کی
دل شکستہ پر الزام بد دماغی کا

صبا جو راہ میں دشمن ملیں تو فرما نا
کہ یہ تو کچھ نا کیا، ہو سکے تو اور کرے
کہ اپنے دست لہو رنگ پر نظر ڈالے 
کہ اپنے دعوی ء معصومیت پہ غور کرے 

حدیث ہے کہ اصولاً گنہگار نہ ہوں 
گنہگار پہ پتھر سنبھالنے والے
اور اپنی آنکھ کے شہتیر پر نظر رکھیں 
ہماری آنکھ سے کانٹے نکالنے والے 

مصطفی ـ جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گیا


جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گیا
شاہی تو مل گئی دل شاہانہ چھٹ گیا

کوئی تو غم گسار تھا، کوئی تو دوست تھا
اب کس کے پاس جائیں کہ ویرانہ چھٹ گیا

دنیا تمام چھٹ گئی پیمانے کے لیئے
وہ میکدے میں آئے تو پیمانہ چھٹ گیا

کیا تیز پا تھے دن کی تمازت کے قافلے 
ہاتوں سے رشتۂ شب افسانہ چھٹ گیا

اک دن حساب ہو گا کہ دنیا کے واسطے 
کن صاحبوں کا مسلک رندانہ چھٹ گیا

مصطفی ـ جہاں جلے تھے ترے حسنِ آتشیں کے کنول


جہاں جلے تھے ترے حسنِ آتشیں کے کنول
وہاں الاؤ تو کیا راکھ کا نشاں بھی نہ تھا
چراغ کشتۂ محفل دھواں دھواں بھی نہ تھا

مسافرت نے پکارا نئے افق کی طرف
اگر وفا کی شریعت کا یہ صلہ ہو گا
نئے افق سے تعارف کے بعد کیا ہو گا

دردِ دل بھی غمِ دوراں کے برابر سے اٹھا
آگ صحرا میں لگی اور دھواں گھر سے اٹھا

تابشِ حُسن بھی تھی آتشِ دنیا بھی مگر
شُعلہ جس نے مجھے پھُونکا، میرے اندر سے اُٹھا

کسی موسم کی فقیروں کو ضرورت نہ رہی
آگ بھی، ابر بھی، طوفان بھی ساغر سے اُٹھا

بے صَدف کتنے ہی دریاؤں سے کچھ بھی نہ ہوا
بوجھ قطرے کا تھا ایسا کہ سمندر سے اٹھا

چاند سے شکوہ بہ لب ہوں کہ سُلایا کیوں تھا
میں کہ خورشیدِ جہانتاب کی ٹھوکر سے اُٹھا

مصطفی ـ پہلی محبت کے نام مصطفی زیدی


وقت سے کس کا کلیجہ ہے کہ ٹکرا جائے
وقت انسان کے ہر غم کی دوا ہوتا ہے

زندگی نام ہے احساس کی تبدیلی کا
صرف مر مر کے جیئے جانے سے کیا ہوتا ہے

تو غم دل کی روایات میں پابند نہ ہو
غم دل شعر و حکایت کے سوا کچھ بھی نہیں

یہ تری کم نظری ہے کہ تیری آنکھوں میں
ایک مجبور شکایت کے سوا کچھ بھی نہیں

ارتقاء کی نئی منزل پہ مصور کی نگاہ
اپنی تصویر کے انداز بدل جاتی ہے

زاویئے پاؤں کے ہر رقص میں ہو تے ہیں جدا
ہر نئے ساز پہ آواز بدل جاتی ہے

یہ مرا جرم نہیں ہے کہ جرس کے ہمراہ
میں نئی راہ گزاروں پہ نکل آیا ہوں

میرے معیار نے اک اور صنم ڈھال لیا
میں ذرا دور کے دھاروں پہ نکل آیا ہوں

پھر بھی تقدیر کو اس کھیل میں کیا لطف ملا
(تیرے نزدیک جو ہم معنیِ الزام بھی ہے)

آج جس سے مرے آنگن میں دیئے جلتے ہیں
تیری ہم شکل بھی ہے اور تیری ہم نام بھی ہے