اردو اور فارسی شاعری سے انتخابات -------- Selections from Urdu and Farsi poetry

غالب - بازیچہٴ اطفال ہے دنیا مرے آگے

2/20/2010


بازیچہٴ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

اک کھیل ہے اورنگِ سلیماں، مرے نزدیک
اک بات ہے اعجازِ مسیحا، مرے آگے

جزنام، نہیں صورت عالم، مجھے منظور
جزوہم، نہیں ہستی اشیاء، مرے آگے

ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا، مرے ہوتے
گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے

مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا، ترے پیچھے
تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا، مرے آگے

سچ کہتے ہو خودبین و خود آرا ہوں، نہ کیوں ہوں
بیٹھا ہے بت آئینہ سیما، مرے آگے

پھر دیکھئے انداز گل افشانی گفتار
رکھ دے کوئی پیمانہٴ صہبا، مرے آگے

نفرت کا گماں گزرے ہے، میں ر شک سے گزرا
کیوں کر کہوں ”لونام نہ ان کا مرے آگے“

ایماں مجھے روکے ہے، جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے، کلیسا، مرے آگے

عاشق ہوں، پہ معشوق فریبی ہے مرا کام
مجنوں کو برا کہتی ہے، لیلیٰ، مرے آگے

خوش ہوتے ہیں، پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے
آئی شبِ ہجراں کی تمنا، مرے آگے

ہے موج زن اک قلزمِ خوں، کاش، یہی ہو
آتا ہے، ابھی دیکھئے، کیا کیا، مرے آگے

گو ہاتھ کو جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

ہم پیشہ وہم مشرب وہم راز ہے میرا
غالب کو برا کیوں کہو؟ اچھا مرے آگے

رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے


و میں رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں 

سنو فسانہٴ فصلِ بہار کانٹوں سے
یہ باخبر یہاں عمریں گزار بیٹھے ہیں

اقبال

زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی
نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آداب سحر خیزی

کہیں سرمایہ محفل تھی میری گرم گفتاری
کہیں سب کو پریشاں کر گئی میری کم آمیزی

زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا
طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی
جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

سواد رومت الکبرے میں دلی یاد آتی ہے
وہی عبرت ، وہی عظمت ، وہی شان دل آویزی

افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی
خوفِ فسادِ خلق سے ناگفتہ رہ گئے

کن نیندوں سورہی ہے تو اے چشم نیم باز

کن نیندوں سورہی ہے تو اے چشم نیم باز
مژگاں  تو  کھول شہر  کو  سیلاب  لے  گیا

اقبال - روح ہندوستان نالہ و فریاد می کند


شمع جان افسرد در فانوس ہند
ہندیان بیگانہ از ناموس ہند

مردک نامحرم از اسرار خویش
زخمۂ خود کم زند بر تار خویش

بر زمان رفتہ می بندد نظر
از تش افسردہ میسوزد جگر

بند ہا بر دست و پای من ازوست
نالہ ہای نارسای من ازوست

خویشتن را از خودی پرداختہ
از رسوم کہنہ زندان ساختہ

آدمیت از وجودش دردمند
عصر نو از پاک و ناپاکش نژند

بگذر از فقری کہ عریانی دہد
ای خنک فقری کہ سلطانی دہد

الحذر از جبر و ہم از خوی صبر
صابر و مجبور را زہر است جبر

این بہ صبر پیہمی خوگر شود
آن بہ جبر پیہمی خوگر شود

ہر دو را ذوق ستم گردد فزون
ورد من ’’یالیت قومی یعلمون‘‘

کی شب ہندوستان آید بروز
مرد جعفر ، زندہ روح او ہنوز

تا ز قید یک بدن وا می رہد
آشیان اندر تن دیگر نہد

گاہ او را با کلیسا ساز باز
گاہ پیش دیریان اندر نیاز

دین او آئین او سوداگری است
عنتری اندر لباس حیدری است

تا جہان رنگ و بو گردد دگر
رسم او آئین او گردد دگر

پیش ازین چیزی دگر مسجود او
در زمان ما وطن معبود او

ظاھر او از غم دین دردمند
باطنش چون دیریان زنار بند

جعفر اندر ہر بدن ملت کش است
این مسلمانی کہن ملت کش است

خند خندان است و با کس یار نیست
مار اگر خندان شود جز مار نیست

از نفاقش وحدت قومی دونیم
ملت او از وجود او لیم

ملتی را ہر کجا غارتگری است
اصل او از صادقی یا جعفری است

الامان از روح جعفر الامان
الامان از جعفران این زمان

منیر نیازی - اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو


اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو
اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو


یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد
تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو

لائی ہے اب اڑا کے گئے موسموں کی باس
برکھا کی رُت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو

دل کو ہجومِ نکہتِ مہ سے لہو کیے
راتوں کا پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو

پھرتے ہیں مثلِ موجِ ہوا شہر شہر میں
آوارگی کی لہر ہے اور ہم ہیں دوستو

آنکھوں میں اڑ رہی ہے لُٹی محفلوں کی دھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو


اے پتر ھٹاں تے نہیں وک دے

اے پتر ھٹاں تے نہیں وک دے
اے پتر ھٹاں تے نہیں وک دے 
کی لب نیں ایں وچ بازار کڑے
اے دین اے میرے داتا دی
نا ایویں ٹکراں مار کڑے
اے پتر ھٹاں تے نہیں وک دے

اے پتر وکاؤ چیز نہیں
اے پتر وکاؤ چیز نہیں
مل دے کے جھولی پائیے نیں
اے ایڈا سستا مال نہیں
کتوں جا کے منگ لیا ئیے نیں
اے سودا نقد وی نہیں مل دا
تو لب دی پھریں ادھار کڑے
اے پتر ھٹاں تے نہیں وک دے

اے شیر بہادر غازی نیں
اے شیر بہادر غازی نیں
اے کسے کولوں وی ہر دے نہیں
اینا دشمناں کولوں کی ڈرنا
اے موت کولوں وی ڈردے نہیں
اے اپنے دیس دی عزت توں 
جان اپنی دیندے وار کڑے
اے پتر ھٹاں تے نہیں وک دے

تن بھاگ نیں اوہناں ماواں دے
تن بھاگ نیں اوہناں ماواں دے
جنہاں ماواں دے اے جائے نیں
تن بھاگ نیں بہن بھراواں دے
جنہاں گودی ویر کھڈائے نیں
اے آن نیں ماناں والیاں دے
نہیں ایس دی تینوں خوار کڑے
اے پتر ہٹاں تے نہیں وک دے

اے سودا نقد وی نہیں مل دا
اے سودا نقد وی نہیں مل دا
تو لب دی پھریں ادھار کڑے
اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے 
کی لبنی ایں وچ بازار کڑے
اے پتر ھٹاں تے نہیں وکدے

اے دین اے میرے داتا دی
نا ایویں ٹکراں مار کڑے 
اے پتر ھٹاں تے نہیں وک دے
اے پتر ھٹاں تے نہیں وک دے



فیض - اجل کے ہاتہ کوئی آرہا ہے پروانہ

اجل کے ہاتہ کوئی آرہا ہے پروانہ
نہ جانے آج کی فہرست میں رقم کیا ہے

اقبال - اے رہرو فرزانہ بے جذب مسلمانی


اے   رہرو   فرزانہ    بے   جذب   مسلمانی
نے راہ  عمل پیدا  نے  شاخ   یقیں  نم   ناک

رمزیں  ہیں محبت  کی گستاخی  و  بے  باکی
ہر شوق نہیں گستاخ  ہر جذب نہیں  بے  باک

فارغ تو نہ  بیٹھے گا محشر میں جنوں  میرا
یا  اپنا  گریباں  چاک  یا دامن  یزداں  چاک

ساغر صدیقی - جس دور میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی

جس دور میں  لٹ  جائے  فقیروں  کی  کمائی 
اس دور کے سلطاں سے کوئی بھول ہوئی ہے

اکتوبر1958ء میںپاکستان میںفوجی انقلاب میںمحمد ایوب بر سر اقتدار آگئے اور تمامسیاسی پارٹیاں اور سیاست داں جن کی باہمی چپقلش اور رسہ کشی سے عوام تنگ آ چکے تھے۔ حرف غلط کی طرح فراموش کر دیے گئے۔ لوگ اس تبدیلی پر واقعی خوش تھے۔ ساغر نے اسی جذبے کا اظہار ایک نظم میں کیا ہے، اس میں ایک مصرع تھا:

کیا ہے صبر جو ہم نے، ہمیںایوب ملا

یہ نظم جرنیل محمد ایوب کی نظر سے گزری یا گزاری گئی۔ اس کے بعد جب وہلاہور آئے تو انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ میں اسشاعر سے ملنا چاہتا ہوں جس نے یہنظم لکھی تھی۔ اب کیا تھا!پولیس اور خفیہ پولیس اورنوکر شاہی کا پورا عملہ حرکت میں آگیا اور ساغر کی تلاش ہونے لگی۔ لیکن صبح سے شام تک کی پوری کوشش کے باوجود وہ ہاتھ ‍ نہ لگا۔ اس کا کوئی ٹھور ٹھکانہ تو تھا نہیں، جہاں سے وہ اسے پکڑ لاتے۔ پوچھ‍ گچھ‍ کرتے کرتے سر شام پولیس نے اسے پان والے کی دوکان کے سامنے کھڑے دیکھ‍ لیا۔ وہ پان والے سے کہہ رہا تھا کہپان میں قوام ذرا زیادہ ڈالنا۔ پولیس افسر کی باچھیں کھل گئیں کہ شکر ہے ظلّ سبحانی کے حکم کی تعمیل ہو گئی۔ انہوں نے قریب جا کر ساغر سے کہا کہ آپ کو حضورصدر مملکت نے یاد فرمایا ہے۔ ساغر نے کہا:

بابا ہم فقیروں کاصدر سے کیا کام! افسر نے اصرار کیا، ساغر نے انکار کی رٹ نہ چھوڑی۔ افسر بے چارا پریشان کرے تو کیا کیونکہ وہ ساغر کو گرفتار کرکے تو لے نہیں جا سکتا تھا کہ اس نے کوئی جرم نہیں کیا تھا اور اسے کوئی ایسی ہدایت بھی نہیں ملی تھی، جرنیل صاحب تو محض اس سے ملنے کے خواہشمند تھے اور ادھر یہ "پگلا شاعر" یہ عزت افزائی قبول کرنے کو 
تیار نہیں تھا۔ اب افسر نے جو مسلسل خوشامد سے کام لیا، تو ساغر نے زچ ہو کر اس سے کہا:

ارے صاحب، مجھےگورنر ہاؤس میں جانے کی ضرورت نہیں۔ وہ مجھے کیا دیں گے۔ دو سو چار سو، فقیروں کی قیمت اس سے زیادہ ہے۔ جب وہ اس پر بھی نہ ٹلا تو ساغر نےگلوری کلے میں دبائی اور زمین پر پڑی سگرٹ کی خالی ڈبیہ اٹھا کر اسے کھولا۔ جس سے اس کا اندر کا حصہ نمایاں ہو گیا۔ اتنے میں یہ تماشا دیکھنے کو ارد گرد خاصی بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔ ساغر نے کسی سے قلم مانگا اور اس کاغذ کے ٹکڑے پر یہ شعر لکھا:

جس دور میں  لٹ  جائے  فقیروں  کی  کمائی 
اس دور کے سلطاں سے کوئی بھول ہوئی ہے
(ساغر صدیقی بقلم خود)



اقبال - کے شب ہندوستان آید بروز


کے شب ہندوستان آید بروز
مرد جعفر ، زندہ روح او ہنوز

تا ز قید یک بدن وا می رہد
آشیان  اندر تن    دیگر  نہد

گاہ او را با کلیسا ساز باز
گاہ پیش دیریان اندر نیاز

دین او آئین او سوداگری است
عنتری اندر لباس حیدری است

تا جہان رنگ و بو گردد دگر
رسم  او  آئین  او  گردد  دگر

پیش ازین چیزی دگر مسجود او
در  زمان    ما    وطن  معبود   او

ظاھر او  از غم دین  دردمند
باطنش چون دیریان زنار بند

جعفر اندر ہر بدن ملت کش است
این مسلمانی کہن ملت کش است


خند خندان است و با کس یار نیست
مار  اگر  خندان   شود   جز   مار  نیست

از    نفاقش    وحدت    قومی    دونیم
ملت    او      از      وجود      او     لئیم

ملتی   را    ہر    کجا      غارتگری     است
اصل او از صادقی    یا    جعفری   است

الامان     از       روح       جعفر      الامان
الامان      از     جعفران     این       زمان


راز حیات، شمع سے، پروانہ کہہ گیا
فرزانگی کی بات تھی، دیوانہ کہہ گیا

احمد ندیم قاسمی

خدا نہ کرے کسی قوم پر یہ وقت آئے
کہ خواب دفن رہیں شاعروں کے سینوں میں


نامعلوم - بوم نوبت می زند بر دَرگَه افراسیاب


بوم  نوبت می  زند  بر  دَرگَه  افراسیاب
پرده داری می  کند بر قصر  قیصر عنکبوت

پرده‌داری می  كند در كاخ  قيصر عنكبوت
بوم نوبت  می  زند  بر  طارم  افراسياب

بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی
بیچ ہی دیویں جو یوسف سا برادر ہووے

اقبال

ہر کہ عشقِ مصطفےٰ سامانِ اوست
بحروبردر گوشہ دامانِ اوست

ذکر و فکر و علم و عرفانم توئی
کشتی و دریا و طوفانم توئی

نگاہ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر
وہی قرآن وہی فر قاں وہی یٰسین وہی طہٰ


یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں کبھی
روحِ محمد اس کے بدن سے نکال دو

فکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیّلات!
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو


خیر ہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سر مہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ ونجف

بمصطفےٰ برساں خویش راکہ دیں ہمہ اوست
اگربہ او نر سیدی تمام بولہبی ست

اقبال

یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہانگیری ، محبت کی فراوانی

بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ تورانی رہے باقی ، نہ ایرانی نہ افغانی

ہوس نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے نوع انساں کو
اخوت کابیاں ہوجا ، محبت کی زباں ہوجا
یہ ہندی ، وہ خراسانی ، یہ افغانی ، وہ تورانی
تو اے شرمندہ ساحل ، اچھل کر بیکراں ہوجا

ربط ملت و ضبط ملت بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر

نسل گر مسلم کی مذہب پر مقدم ہوگئی
اڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک رہ گزر


اس دور میں قوموں کی محبت بھی ہوئی عام
پوشیدہ نگاہوں سے رہی وحدت آدم

تفریق ملل حکمت افرنگ کا مقصود
اسلام کا مقصود فقط ملت آدم

مکہ نے دیا خاک جینو ا کو یہ پیغام
جمعیت اقوام ہے جمعیت آدم

اقبال

قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں، محفل ِ انجم بھی نہیں

تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے
نشہ قے کو تعلق نہیں پیمانے سے

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم ِ رسولِ ہاشمی

دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی

اقبال

نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میری
خموش گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میری

یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری

اٹھا ئے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نے
چمن میں ہرطرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری
اڑالی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نے
چمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میری
ٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سے
سراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستان میری
الٰہی پھر مزا کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کا
حیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میری
مرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کا
وہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میری
چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے
عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں
وطن کی فکر کرنا داں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہورہا ہے ہونے والا ہے
دھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میں
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
یہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہے
جو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہے

اقبال - محراب گل افغان کے افکار (۱۹)


(19)

نگاہ وہ نہیں جو سرخ و زرد پہچانے
نگاہ وہ ہے کہ محتاج مہر و ماہ نہیں

فرنگ سے بہت آگے ہے منزل مومن
قدم اٹھا! یہ مقام انتہائے راہ نہیں

کھلے ہیں سب کے لیے غربیوں کے میخانے
علوم تازہ کی سرمستیاں گناہ نہیں

اسی سرور میں پوشیدہ موت بھی ہے تری
ترے بدن میں اگر سوز 'لاالہ' نہیں

سنیں گے میری صداخانزاد گان کبیر؟
گلیم پوش ہوں میں صاحب کلاہ نہیں!

اقبال

والدہ مرحومہ کی یاد میں

ذرہ ذرہ دہر کا زندانی تقدیر ہے
پردئہ مجبوری و بے چارگی تدبیر ہے

آسماں مجبور ہے، شمس و قمر مجبور ہیں
انجم سیماب پا رفتار پر مجبور ہیں

ہے شکت انجام غنچے کا سبو گلزار میں
سبزہ و گل بھی ہیں مجبور نمو گلزار میں

نغمہ بلبل ہو یا آواز خاموش ضمیر
ہے اسی زنجیر عالم گیر میں ہر شے اسیر

آنکھ پر ہوتا ہے جب یہ سر مجبوری عیاں
خشک ہو جاتا ہے دل میں اشک کا سیل رواں

قلب انسانی میں رقص عیش و غم رہتا نہیں
نغمہ رہ جاتا ہے ، لطف زیروبم رہتا نہیں

علم و حکمت رہزن سامان اشک و آہ ہے
یعنی اک الماس کا ٹکڑا دل آگاہ ہے

گرچہ میرے باغ میں شبنم کی شادابی نہیں
آنکھ میری مایہ دار اشک عنابی نہیں

جانتا ہوں آہ ، میں آلام انسانی کا راز
ہے نوائے شکوہ سے خالی مری فطرت کا ساز

میرے لب پر قصہ نیرنگی دوراں نہیں
دل مرا حیراں نہیں، خنداں نہیں، گریاں نہیں

پر تری تصویر قاصد گریۂ پیہم کی ہے
آہ! یہ تردید میری حکمت محکم کی ہے

گریہ سرشار سے بنیاد جاں پائندہ ہے
درد کے عرفاں سے عقل سنگدل شرمندہ ہے

موج دود آہ سے آئینہ ہے روشن مرا
گنج آب آورد سے معمور ہے دامن مرا

حیرتی ہوں میں تری تصویر کے اعجاز کا
رخ بدل ڈالا ہے جس نے وقت کی پرواز کا

رفتہ و حاضر کو گویا پا بپا اس نے کیا
عہد طفلی سے مجھے پھر آشنا اس نے کیا

جب ترے دامن میں پلتی تھی وہ جان ناتواں
بات سے اچھی طرح محرم نہ تھی جس کی زباں

اور اب چرچے ہیں جس کی شوخی گفتار کے
بے بہا موتی ہیں جس کی چشم گوہربار کے

علم کی سنجیدہ گفتاری، بڑھاپے کا شعور
دنیوی اعزاز کی شوکت، جوانی کا غرور

زندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہم
صحبت مادر میں طفل سادہ رہ جاتے ہیں ہم

بے تکلف خندہ زن ہیں، فکر سے آزاد ہیں
پھر اسی کھوئے ہوئے فردوس میں آباد ہیں

کس کو اب ہوگا وطن میں آہ! میرا انتظار
کون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرار

خاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آئوں گا
اب دعائے نیم شب میں کس کو یاد میں آئوں گا!

تربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہوا
گھر مرے اجداد کا سرمایہ عزت ہوا

دفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیات
تھی سراپا دیں و دنیا کا سبق تیری حیات

عمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہی
میں تری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسی

وہ جواں، قامت میں ہے جو صورت سرو بلند
تیری خدمت سے ہوا جو مجھ سے بڑھ کر بہرہ مند

کاروبار زندگانی میں وہ ہم پہلو مرا
وہ محبت میں تری تصویر، وہ بازو مرا

تجھ کو مثل طفلک بے دست و پا روتا ہے وہ
صبر سے ناآشنا صبح و مسا روتا ہے وہ

تخم جس کا تو ہماری کشت جاں میں بو گئی
شرکت غم سے وہ الفت اور محکم ہوگئی

آہ! یہ دنیا ، یہ ماتم خانہ برنا و پیر
آدمی ہے کس طلسم دوش و فردا میں اسیر!

کتنی مشکل زندگی ہے، کس قدر آساں ہے موت
گلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موت

زلزلے ہیں، بجلیاں ہیں، قحط ہیں، آلام ہیں
کیسی کیسی دختران مادر ایام ہیں!

کلبہ افلاس میں، دولت کے کاشانے میں موت
دشت و در میں، شہر میں، گلشن میں، ویرانے میں موت

موت ہے ہنگامہ آرا قلزم خاموش میں
ڈوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میں

نے مجال شکوہ ہے، نے طاقت گفتار ہے
زندگانی کیا ہے ، اک طوق گلو افشار ہے!

قافلے میں غیر فریاد درا کچھ بھی نہیں
اک متاع دیدئہ تر کے سوا کچھ بھی نہیں

ختم ہو جائے گا لیکن امتحاں کا دور بھی
ہیں پس نہ پردئہ گردوں ابھی اور بھی

سینہ چاک اس گلستاں میں لالہ و گل ہیں تو کیا
نالہ و فریاد پر مجبور بلبل ہیں تو کیا

جھاڑیاں، جن کے قفس میں قید ہے آہ خزاں
سبز کر دے گی انھیں باد بہار جاوداں

خفتہ خاک پے سپر میں ہے شرار اپنا تو کیا
عارضی محمل ہے یہ مشت غبار اپنا تو کیا

زندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیں
ٹوٹنا جس کا مقدر ہو یہ وہ گوہر نہیں

زندگی محبوب ایسی دیدئہ قدرت میں ہے
ذوق حفظ زندگی ہر چیز کی فطرت میں ہے

موت کے ہاتھوں سے مٹ سکتا اگر نقش حیات
عام یوں اس کو نہ کر دیتا نظام کائنات

ہے اگر ارزاں تو یہ سمجھو اجل کچھ بھی نہیں
جس طرح سونے سے جینے میں خلل کچھ بھی نہیں

آہ غافل! موت کا راز نہاں کچھ اور ہے
نقش کی ناپائداری سے عیاں کچھ اور ہے

جنت نظارہ ہے نقش ہوا بالائے آب
موج مضطر توڑ کر تعمیر کرتی ہے حباب

موج کے دامن میں پھر اس کو چھپا دیتی ہے یہ
کتنی بیدردی سے نقش اپنا مٹا دیتی ہے یہ

پھر نہ کر سکتی حباب اپنا اگر پیدا ہوا
توڑنے میں اس کے یوں ہوتی نہ بے پروا ہوا

اس روش کا کیا اثر ہے ہےئت تعمیر پر
یہ تو حجت ہے ہوا کی قوت تعمیر پر

فطرت ہستی شہید آرزو رہتی نہ ہو
خوب تر پیکر کی اس کو جستجو رہتی نہ ہو

آہ سیماب پریشاں ، انجم گردوں فروز
شوخ یہ چنگاریاں ، ممنون شب ہے جن کا سوز

عقل جس سے سر بہ زانو ہے وہ مدت ان کی ہے
سرگزشت نوع انساں ایک ساعت ان کی ہے

پھر یہ انساں، آں سوئے افلاک ہے جس کی نظر
قدسیوں سے بھی مقاصد میں ہے جو پاکیزہ تر

جو مثال شمع روشن محفل قدرت میں ہے
آسماں اک نقطہ جس کی وسعت فطرت میں ہے

جس کی نادانی صداقت کے لیے بیتاب ہے
جس کا ناخن ساز ہستی کے لیے مضراب ہے

شعلہ یہ کمتر ہے گردوں کے شراروں سے بھی کیا
کم بہا ہے آفتاب اپنا ستاروں سے بھی کیا

تخم گل کی آنکھ زیر خاک بھی بے خواب ہے
کس قدر نشوونما کے واسطے بے تاب ہے

زندگی کا شعلہ اس دانے میں جو مستور ہے
خود نمائی ، خودفزائی کے لیے مجبور ہے

سردی مرقد سے بھی افسردہ ہو سکتا نہیں
خاک میں دب کر بھی اپنا سوز کھو سکتا نہیں

پھول بن کر اپنی تربت سے نکل آتا ہے یہ
موت سے گویا قبائے زندگی پاتا ہے یہ

ہے لحد اس قوت آشفتہ کی شیرازہ بند
ڈالتی ہے گردن گردوں میں جو اپنی کمند

موت، تجدید مذاق زندگی کا نام ہے
خواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہے

خوگر پرواز کو پرواز میں ڈر کچھ نہیں
موت اس گلشن میں جز سنجیدن پر کچھ نہیں

کہتے ہیں اہل جہاں درد اجل ہے لا دوا
زخم فرقت وقت کے مرہم سے پاتا ہے شفا

دل مگر ، غم مرنے والوں کا جہاں آباد ہے
حلقہ زنجیر صبح و شام سے آزاد ہے

وقت کے افسوں سے تھمتا نالئہ ماتم نہیں
وقت زخم تیغ فرقت کا کوئی مرہم نہیں

سر پہ آجاتی ہے جب کوئی مصیبت ناگہاں
اشک پیہم دیدئہ انساں سے ہوتے ہیں رواں

ربط ہو جاتا ہے دل کو نالہ و فریاد سے
خون دل بہتا ہے آنکھوں کی سرشک آباد سے

آدمی تاب شکیبائی سے گو محروم ہے
اس کی فطرت میں یہ اک احساس نامعلوم ہے

ق

جوہر انساں عدم سے آشنا ہوتا نہیں
آنکھ سے غائب تو ہوتا ہے ،فنا ہوتا نہیں

رخت ہستی خاک، غم کی شعلہ افشانی سے ہے
سرد یہ آگ اس لطیف احساس کے پانی سے ہے

آہ، یہ ضبط فغاں غفلت کی خاموشی نہیں
آگہی ہے یہ دل آسائی، فراموشی نہیں

پردئہ مشرق سے جس دم جلوہ گر ہوتی ہے صبح
داغ شب کا دامن آفاق سے دھوتی ہے صبح

لالہ افسردہ کو آتش قبا کرتی ہے یہ
بے زباں طائر کو سرمست نوا کرتی ہے یہ

سینہ بلبل کے زنداں سے سرود آزاد ہے
سینکڑوں نغموں سے باد صج دم آباد ہے

خفتگان لالہ زار و کوہسار و رودباد
ہوتے ہیں آخر عروس زندگی سے ہمکنار

یہ اگر آئین ہستی ہے کہ ہو ہر شام صبح
مرقد انساں کی شب کا کیوں نہ ہو انجام صبح

دام سیمین تخیل ہے مرا آفاق گیر
کر لیا ہے جس سے تیری یاد کو میں نے اسیر

یاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہے
جیسے کعبے میں دعاؤں سے فضا معمور ہے

وہ فرائض کا تسلسل نام ہے جس کا حیات
جلوہ گاہیں اس کی ہیں لاکھوں جہاں بے ثبات

مختلف ہر منزل ہستی کی رسم و راہ ہے
آخرت بھی زندگی کی ایک جولاں گاہ ہے

ہے وہاں بے حاصلی کشت اجل کے واسطے
ساز گار آب و ہوا تخم عمل کے واسطے

نور فطرت ظلمت پیکر کا زندانی نہیں
تنگ ایسا حلقۂ افکار انسانی نہیں

زندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ تر
خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر

مثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترا
نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزئہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے