اردو اور فارسی شاعری سے انتخابات -------- Selections from Urdu and Farsi poetry

محسن: میرے قاتل کو پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی

12/16/2014

 
میرے قاتل کو پکارو کہ میں زندہ ہوں ابھی 
پھر سے مقتل کو سنوارو کہ میں زندہ ہوں ابھی 
 
یہ شب ہجر تو ساتھی ہے میری برسوں سے 
جاؤ سو جاؤ ستارو کہ میں زندہ ہوں ابھی 
 
یہ پریشان سے گیسو دیکھے نہیں جاتے 
اپنی زلفوں کو سنوارو کہ میں زندہ ہوں ابھی 
 
لاکھ موجوں میں گھرا ہوں ، ابھی ڈوبا تو نہیں 
مجھ کو ساحل سے پکارو کہ میں زندہ ہوں ابھی 
 
قبر سے آج بھی محسن کی آتی ہے صدا 
تم کہاں ہو میرے یارو کہ میں زندہ ہوں ابھی 

کوئی تبصرے نہیں :