اردو اور فارسی شاعری سے انتخابات -------- Selections from Urdu and Farsi poetry

مصطفی ـ مجھے یقیں تھا کہ تم نہیں ہو

2/16/2014


مجھے یقیں تھا کہ تم نہیں ہو
تھکے ہوے کھڑکیوں کے چہرے 

جلی ہوئی آسماں کی رنگت
سیاہ آفاق تک بگولے 

لہو کے آتش فشاں کی ساعت
وجود پر ایک بوجھ سا تھا

نہ صبح وعدہ نہ شام فرقت
اسی مہیب آتشیں گھڑی میں 

کسی کی دستک سنی تو دل نے 
کہا کہ صحرا کی چوٹ کھائے

کوئی غریب الدیار ہو گا
یہ سچ کہ دل کی ہر ایک دھڑکن

تمہارے درشن کے واسطے تھی
حیات کا ایک ایک لمحہ

تمہاری آہٹ کا منتظر تھا
مگر ایک ایسے دیار غم میں 

جہاں کی ہر چیز خشمگیں ہو
مجھے یقیں تھا کہ تم نہیں ہو

کوئی تبصرے نہیں :