اردو اور فارسی شاعری سے انتخابات -------- Selections from Urdu and Farsi poetry

اقبال

نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میری
خموش گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میری

یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری

اٹھا ئے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نے
چمن میں ہرطرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری
اڑالی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نے
چمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میری
ٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سے
سراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستان میری
الٰہی پھر مزا کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کا
حیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میری
مرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کا
وہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میری
چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے
عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں
وطن کی فکر کرنا داں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہورہا ہے ہونے والا ہے
دھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میں
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
یہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہے
جو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہے

کوئی تبصرے نہیں :