اردو اور فارسی شاعری سے انتخابات -------- Selections from Urdu and Farsi poetry

حسرت ـ برق کو ابرکے دامن میں چھپا دیکھا ہے

1/17/2014


برق کو ابرکے دامن میں چھپا دیکھا ہے
ہم نے اس شوخ کو مجبور حیا دیکھا ہے 

یادبھی دل کو نہیں صبر و سکوں کی صورت 
جب سے اس ساعد سمیں کو کھلا دیکھا ہے 
**** 
تیری محفل سے اٹھاتا غیر مجھ کو کیا مجال
دیکھتا تھا میں کہ تو نے بھی اشارہ کردیا 

بڑھ گئیں تم سے تو مل کر اور بھی بے تابیاں 
ہم یہ سمجھے تھے اب دل کو شکیبا کر دیا 
****
اک مرقع ہے حسن شوخ ترا
کشمکش ہائے نوجوانی کا 

کٹ گیا قید میں رمضاں بھی حسرت 
گرچہ سامان سحر کا تھا نہ افطاری کا 
***** 
ہم قول کے صادق ہیں اگر جان بھی جاتی
واللہ کہ ہم خدمت انگریز نہ کرتے