اردو اور فارسی شاعری سے انتخابات -------- Selections from Urdu and Farsi poetry

فیض - روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں

2/24/2013


روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں 
گلشن میں چاک چند گریباں ہوئے تو ہیں 

اب بھی خزاں کا راج ہے لیکن کہیں کہیں 
گوشے رہِ چمن میں غزل خواں ہوئے تو ہیں 

ٹھہری ہوئی ہے شب کی سیاہی وہیں مگر 
کچھ کچھ سحر کے رنگ پُر افشاں ہوئے تو ہیں 

ان میں لُہو جلا ہو، ہمارا، کہ جان و دل 
محفل میں کچھ چراغِ فروزاں ہوئے تو ہیں 

ہاں کج کر و کلاہ کہ سب کچھ لُٹا کے ہم 
اب بے نیازِ گردشِ دوراں ہوئے تو ہیں 

اہلِ قفس کی صبح چمن میں کھلے گی آنکھ 
بادِ صبا سے وعدہ و پیماں ہوئے تو ہیں 

ہے دشت اب بھی دشت مگر خون پا سے فیض 
سیراب چند خارِ مغیلاں ہوئے تو ہیں