اردو اور فارسی شاعری سے انتخابات -------- Selections from Urdu and Farsi poetry

رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں

12/25/2021

رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں

شام اودھ کی تو بنارس کی سحر رکھتے ہیں

 

بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیا

تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں

 

اشک قابو میں نہیں راز چھپاؤں کیوں کر

دشمنی مجھ سے مرے دیدۂ تر رکھتے ہیں

 

کیسے بے رحم ہیں صیاد الٰہی توبہ

موسم گل میں مجھے کاٹ کے پر رکھتے ہیں

 

کون ہیں ہم سے سوا ناز اٹھانے والے

سامنے آئیں جو دل اور جگر رکھتے ہیں

 

دل تو کیا چیز ہے پتھر ہو تو پانی ہو جائے

میرے نالے ابھی اتنا تو اثر رکھتے ہیں

 

چار دن کے لیے دنیا میں لڑائی کیسی

وہ بھی کیا لوگ ہیں آپس میں شرر رکھتے ہیں

 

حال دل یار کو محفل میں سناؤں کیوں کر

مدعی کان ادھر اور ادھر رکھتے ہیں

 

جلوۂ یار کسی کو نظر آتا کب ہے

دیکھتے ہیں وہی اس کو جو نظر رکھتے ہیں

 

عاشقوں پر ہے دکھانے کو عتاب اے جوہرؔ

دل میں محبوب عنایت کی نظر رکھتے ہیں

 

کوئی تبصرے نہیں :