اردو اور فارسی شاعری سے انتخابات -------- Selections from Urdu and Farsi poetry

فراز اب کے ہم بچھڑے تو شايد کبھي خوابوں ميں مليں

9/03/2014

 
اب کے ہم بچھڑے تو شايد کبھي خوابوں ميں مليں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں ميں مليں

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں ميں وفا کے موتي
يہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں ميں مليں

غم دنيا بھي غم يار ميں شامل کر لو
نشہ بڑھتا ہے شرابيں جو شرابوں ميں مليں

تو خدا ہے نہ ميرا عشق فرشتوں جيسا
دونوں انساں ہيں تو کيوں اتنے حجابوں ميں مليں

آج ہم دار پہ کھينچے گئے جن باتوں پر
کيا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں ميں مليں

اب نہ وہ ہیں، نہ وہ تُو ہے، نہ وہ ماضی ہے فرازؔ

جیسے دو شخص تمّنا کے سرابوں میں ملیں


کوئی تبصرے نہیں :