اردو اور فارسی شاعری سے انتخابات -------- Selections from Urdu and Farsi poetry

محسن بھوپالی ـ چاہت میں کیا دُنیا داری ، عشق میں کیسی مجبوری

7/05/2015

چاہت میں کیا دُنیا داری ، عشق میں کیسی مجبوری
لوگوں کا کیا؟ سمجھانے دو، اُن کی اپنی مجبوری

میں نے دِل کی بات رکھی اور تونے دُنیا والوں کی
میری عرض بھی مجبوری تھی اُن کا حُکم بھی مجبوری

روک سکو تو پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو
کچی مٹی تو مہکے گی ، ہے مٹی کی مجبوری

ذات کدے میں پہروں باتیں اور مِلیں تو مہر بلب
جبرِ وقت نے بخشی ہم کو اب کے کیسی مجبوری

جب تک ہنستا گاتا موسم اپنا ہے سب اپنے ہیں
وقت پڑے تو یاد آجاتی ہے ، مصنوعی مجبوری

مدت گُزری اِک وعدے پر آج بھی قائم ہیں مُحسن
ہم نے ساری عمر نبھائی ، اپنی پہلی مجبوری

کوئی تبصرے نہیں :